رسائی کے لنکس

مصر :عدالت نے داعش کو ’دہشت گرد‘ گروہ قرار دے دیا


مصر
مصر

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اُس کے خیال میں اِس باغی گروپ سے وہ تمام تنظیمیں وابستہ ہیں، جِن میں ’انصار بیت المقدس‘ بھی شامل ہے، جو مصر کا ایک جہادی گروپ ہے، جِس نے اِس ماہ کے اوائل میں داعش کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعادہ کیا تھا

مصر کی ایک عدالت نے داعش کی شدت پسند تنظیم کو ’دہشت گرد‘ گروپ قرار دیا ہے۔

عدالت نے اتوار کے روز یہ بھی کہا ہے کہ اُس کےخیال میں اِس باغی گروپ سے وہ تمام تنظیمیں وابستہ ہیں، جِن میں ’انصار بیت المقدس‘ بھی شامل ہے، جو مصر کا ایک جہادی گروپ ہے، جِس نے اِس ماہ کے اوائل میں داعش کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعادہ کیا تھا۔

گذشتہ سال جب اسلام پرست، صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹایا گیا، ’انصار بیت المقدس‘ نے اکثر و بیشتر جزیرہ نما سنائی میں مصر کی فوجوں پر حملے جاری رکھے ہے۔

دریں اثنا، شام کے سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ کوبانی کا تسلط واگزار کرانے کے لیے، جاری لڑائی کے آخری روز داعش کے کم از کم 50 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا، جو ترک سرحد کے جنوب میں واقع قصبہ ہے۔

’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند کُرد افواج کے ساتھ سنگین لڑائی میں ملوث رہے، امریکی فضائی کارروائیوں یا خودکش بم حملوں میں مارے گئے۔ کوبانی میں کُرد افواج کو 11 ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

برطانیہ میں قائم اس مبصر گروپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے بھی رقعہ کے شامی شہر پر اور اُس کے مضافات میں داعش کے خلاف 30 فضائی کارروائیاں کیں، جو اس جہادی گروہ کا خودساختہ دارالحکومت ہے۔

امریکہ نے ’ڈویژن 17 نامی ہوائی اڈے‘ کو بھی ہدف بنایا، جسے شدت پسندوں نے اس سال کے اوائل میں حکومت شام کی افواج سے چھین لیا تھا۔

فوری طور پر، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔

ترکی نے ہفتے کے روز کہا کہ کُردوں کا یہ دعویٰ جھوٹ ہے کہ داعش کے شدت پسندوں پر حملہ ترکی کی طرف سے کیا گیا۔

وزیر اعظم احمد داؤدوگلو کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں، ترک سلامتی افواج نے کہا ہے کہ سرحد کے ساتھ ساتھ ’تمام ضروری احتیاط‘ برتا جائے گا۔

ایک کرد اہل کار کا کہنا ہے کہ سیریئن آبزرویٹری گروپ نے بتایا ہے کہ ہفتے کو کوبانی میں ہونے والے کار بم حملے میں استعمال ہونے والی کار نے ترکی کی طرف سے سرحد پار کی تھی۔

کردوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کوبانی پر حملوں میں ملوث شدت پسندوں کے زیر استعمال گندم کی بوریوں پر ترکی کے نشانات ہیں۔

ترکی نے کُردوں کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو تواتر کے ساتھ مسترد کیا ہے کہ وہ داعش کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ یہ گروہ ترکی کی سلامتی کے لیے بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔

ترکی امریکی قیادت والے اتحاد میں شمولیت سے کتراتا رہا ہے، جس کا مقصد داعش کے شدت پسندوں کو شام کے نکال باہر کرنا ہے۔

کوبانی کو داعش کے تسلط سے خالی کرانے کے لیے دو ماہ سے زائد مدت سے جاری لڑائی کے دوران، کُرد فوج کو اتحادی افواج کے لڑکا جہازوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ لیکن، اب تک کسی بھی فریق کو کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

XS
SM
MD
LG