رسائی کے لنکس

مصر میں حالیہ ہفتوں کے دوران یہ دوسرا ایسا فیصلہ ہے جس میں عدالت نے سیکڑوں ملزمان کو ایک ساتھ ہی سخت سزا سنائی ہے۔

مصر کی ایک عدالت نے معزول صدر محمد مرسی کی برطرفی کےخلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں ان کے 119 حامیوں کو تین، تین سال کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

سزا پانے والے افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے گزشتہ سال چھ اکتوبر کو معزول صدر کی اپیل پر ہونے والے "غیر قانونی مظاہروں" میں شرکت کی تھی اور "سرکاری املاک کو نقصان" پہنچایا تھا۔

مصر میں فوجی بغاوت کے خلاف چھ اکتوبر کو ہونے والے ان مظاہروں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے سخت کارروائی کی تھی جس میں 50 سے زائد مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔

بدھ کو قاہرہ کی ایک عدالت کے جج حاذم ہشہد نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مقدمے میں نامزد چھ دیگر ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

مصر میں حالیہ ہفتوں کے دوران یہ دوسرا ایسا فیصلہ ہے جس میں عدالت نے سیکڑوں ملزمان کو ایک ساتھ ہی سخت سزا سنائی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ جنوبی مصر کی ایک عدالت نے ایک پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں محمد مرسی کے 529 حامیوں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔

مصری عدالت کے اس فیصلے پر انسانی حقوق کے اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور مغربی ممالک نے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے انصاف اور عدالتی نظام کا مذاق قرار دیا تھا۔

گزشتہ سال تین جولائی کو ہونے والی فوجی بغاوت میں محمد مرسی کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے مصر کے پہلے منتخب اسلام پسند صدر کی جماعت 'اخوان المسلمون' اور اس کے حامیوں کے خلاف ملک بھر میں سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔

مصر کی عبوری حکومت نے 'اخوان المسلمون' کو "دہشت گرد " تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر رکھی ہے جب کہ تنظیم کے ہزاروں کارکنان اور رہنماؤں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

معزول صدر محمد مرسی کو بھی ریاست کے خلاف بغاوت، جاسوسی، مظاہرین کو تشدد پر اکسانے اور غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ساز باز کرنے جیسے الزامات کا سامنا ہے جن کے ثابت ہونے کی صورت میں انہیں موت کی سزا ہوسکتی ہے۔
XS
SM
MD
LG