رسائی کے لنکس

مصر: 230 سرگرم کارکنوں کو عمر قید کی سزا


عدالت (فائل)

عدالت (فائل)

اِس مقدمے کا تعلق اُن جھڑپوں سے ہے جو دسمبر 2011ء میں قاہرہ کے تحریر چوک کے قریب مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہوئیں، جن میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

مصر کی ایک عدالت نے بدھ کو 230 سرگرم کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے، جِن میں لبرل مہم چلانے والے چوٹی کے کارکن، احمد دعوما بھی شامل ہیں، جنھوں نے سنہ 2011 میں معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف چلائی گئی مہم کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں حصہ لیا تھا۔

عدالتی ذرائع کے حوالے سے دی گئی خبر کے مطابق، 30 دیگر مدعا علیہان، جو تمام کے تمام کم سن ہیں، اُنھیں 10 برس کی سزا ہوئی ہے۔

اس مقدمے کا تعلق اُن جھڑپوں سے ہے جو دسمبر 2011ء میں قاہرہ کے تحریر چوک کے قریب مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہوئیں، جن میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دعوما کے علاوہ تمام ملزمان کے خلاف اُن کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا۔ توہین عدالت کے جرم میں، دعوما پہلے ہی تین برس کی قید کاٹ رہے ہیں۔

مصر میں عمر قید کی میعاد 25 برس ہے۔

بدھ کو جج محمد ناگی شہاتہ کا یہ فیصلہ سیکولر سرگرم کارکنوں کو سنائی گئی سزاؤں میں، اب تک کی سخت سزاؤں میں شامل ہے، جب کہ حکومت مخالف اسلام پرست اور لبرل افراد کے خلاف اس سے بھی سنگین کارروائی کی جا چکی ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران، اِسی عدالت نے اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے سابق صدر محمد مرسی کے سینکڑوں حامیوں کو موت کی سزا سنائی ہے۔

XS
SM
MD
LG