رسائی کے لنکس

مصر ی صدر کے خلاف احتجاج پر صحافیوں کو جیل کی سزا


مصر کی صحافیوں کی یونین کا صدر ایک مظاہرے کے دوران۔ (فائل فوٹو)

مصر کی صحافیوں کی یونین کا صدر ایک مظاہرے کے دوران۔ (فائل فوٹو)

صحافیوں نے مصر کی حکومت کی جانب سے 'تیران ' اور ' صنافیر' نامی جزائر سعودی عرب کے حوالے کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ ا

مصر نے صحافیوں کی یونین کے سربراہ کو اور ان کے گروپ کے دو ارکان کو دو سال کے لیےے جیل بھیج دیا ہے۔ ان پر مفروروں کو پناہ دینے کا الزام ہے۔

یہ حکم ہفتے کے روز یونین کے صدر یحیی قلاح اور دو دوسرے صحافیوں کے خلاف اپیل پر ہوا جس میں انہیں 615 ڈالر ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

پولیس نے ایک سال پہلے یونین کے ہیڈکوارٹرزپر دو صحافیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا جن پر مصر کے صدر کے خلاف مظاہرے کرنے کا الزام تھا۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ صحافیوں پر عائد کیے جانے والے الزام مصر میں صحافت اور اظہار کی آزادی پر پابندیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔

صحافیوں نے مصر کی حکومت کی جانب سے 'تیران ' اور ' صنافیر' نامی جزائر سعودی عرب کے حوالے کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر نے مصر کی زمیں سعودیوں کے ہاتھوں بیچ دی ہے۔

مصر کی حکومت کا کہنا ہے کہ تاریخی لحاظ سے وہ جزیرے سعودی عرب کی ملکیت تھے۔ اور قاہرہ نے محض زمین اصل مالکوں کے حوالے کی ہے۔

تیران اور صنافیر فوجی حکمت علمی کے لحاظ سے اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ بحیرہ احمر میں واقع مصر کے نیشنل پارک کا حصہ ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG