رسائی کے لنکس

مغربی اوپرا کا مصری رنگ


مغربی اوپرا کا مصری رنگ

مغربی اوپرا کا مصری رنگ

اوپرا کا فن یورپ میں اٹھارویں صدی کے آخر میں پروان چڑھا۔ فن موسیقی کی یہ قسم عربوں کی ثقافت اور فنون لطیفہ سے بالکل مختلف ہے۔ لیکن مصر سے تعلق رکھنے والے کچھ فنکار جرمنی کے نامور موسیقار موزارٹ کے ایک مشہور اوپرا، دی میجک فلوٹ‘ کو ایک مصری ثقافت کا رنگ دے کر عربی زبان میں پیش کررہے ہیں۔

میجک فلوٹ نامی اس قدیم اوپرا کو عربی زبان میں اور نئی شکل میں پیش کرنے کی کوشش میں مصروف یہ فنکار اس قدیم فن کو قاہرہ کی ا سکندریہ لائبریری کے لیے تیار کر رہے ہیں جو مصر کی جدید ثقافت کی نمائندگی کرتی ہے۔

نوین الوبا اس کی پروڈیوسر ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ میں اور میرے ساتھی روف اور اشرف نئے سال کے لیے ایک گیت گا رہے تھے ۔ اشرف جرمن زبان میں بھی گیت پیش کر رہے تھے ، پھر ہم نے ایک شعر عربی اور ایک جرمن زبان میں گایا ، تو میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہم میجک فلوٹ جیسے مشہور اوپرا کو بھی اسکندریہ کے لوگوں کے لیے عربی میں پیش کریں۔

سارہ اینینی اٹھارویں صدی کے جرمن متن کا عربی میں ترجمہ کر رہی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ جب نوین نے اس اوپرا کو مصر کی عربی زبان میں پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو مجھے یہ بہت حیران کن اور دلچسپ لگا۔۔

پروڈیوسرنوین کا کہنا ہے کہ اس اوپرا میں موجود کے تمام کردار بہت سادہ ہیں اور ان کی جرمن زبان بھی بہت ہی آسان ہے۔

روف زیداس اوپرا میں پاپا جینو کا کردار نبھا رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے جب ہم نے یہ کام شروع کیا تو سارہ نے کہا تھا کہ یہ متن ہماری زبان کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ مجھے یہ بہت پسند آیا ، کیونکہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنی زبان عربی ہی استعمال کرتے ہیں۔ مجھے اپنی زبان سے محبت ہے ۔ اور اپنی زبان میں یہ کام کر کے ہم اپنی زبان کو وہی عزت و احترام دے رہے ہیں جو ہمارے دل میں اس کے لیے ہے۔

سارہ اینینی کہتی ہیں کہ فن اور آرٹ کی زبان سب کے لیے ایک جیسی ہوتی ہے اورآرٹ کو اچھے برے اور مختلف ثقافتوں میں بانٹ کر ہم لوگوں کو اس سے منحرف کرتے ہیں۔ آج بھی قاہرہ کے اوپرا ہال میں آنے والے شائقین کے لیے ، مردوں کے لیے مخصوص لباس کی شرط ہے۔ آپ اس وقت تک اوپرا ہال میں نہیں جا سکتے جب تک سوٹ اور ٹائی میں نہ ہوں۔ تو اس سے وہ لوگ اسے دیکھنے نہیں آئیں گے جن کے پاس سوٹ اور ٹائی ہے ہی نہیں۔ ہمارا تعلق کسی امیر ملک سے نہیں ہے۔ اور جب نوین نے اوپرا کو عربی زبان میں پیش کرنے کی بات کی تو میرے خیال سے یہ زیادہ لوگوں کو اس جانب مائل کرنے کی ایک کوشش تھی۔

اشرف ، جو ساراس ترو کا کردار ادا کررہے ہیں، سارہ کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ صرف اچھا آرٹ ہونا چاہیے۔ ایسا آرٹ جسے لوگ پسند کریں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں جہاں ایک طرف مذہی قدامت پسندی پائی جاتی ہے وہاں ایسے لوگ بھی ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں جو اعتدال پسندنظریات رکھتے ہیں اور اس کا اظہار زندگی کے خوبصورت رنگوں کے ساتھ کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG