رسائی کے لنکس

احسان اللہ احسان کے خلاف ایک اور رٹ پٹیشن دائر


احسان اللہ احسان

شدت پسند تنظیموں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ایک اور رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔

احسان اللہ احسان کے خلاف دائر کی جانے والی یہ تیسری رٹ پٹیشن ہے اور ان میں احسان اللہ احسان کے خلاف پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کا مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ رٹ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر تحریک طالبان کے حملے مارے جانے والے 25 طالب علموں کے والدین متفقہ طور پر دائر کی۔

پشاور ہائی کورٹ میں دائر کردہ ایک رٹ میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی، اس کے لیے احسان اللہ احسان کے خلاف اس بارے میں فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

اپریل کے اوائل میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بتایا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے دھڑے جماعت الاحرار کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔

بعد ازاں اپریل کے اوخرا میں پاکستانی فوج کی طرف سے احسان اللہ احسان کا ایک وڈیو اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا جس میں احسان اللہ احسان نے بتایا کہ اس کا اصل نام لیاقت علی اور تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔

واضح رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دسمبر 2014ء میں ہونے والا دہشت گرد حملہ ملکی تاریخ کا بدترین واقعہ تصور کیا جاتا ہے جس میں 120 سے زائد طلبا سمیت لگ بھگ 150 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG