رسائی کے لنکس

احسان اللہ احسان کے خلاف ملالہ پر حملے کا مقدمہ قائم کیا جائے: سینیٹ کمیٹی


پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور داخلہ نے وزارت داخلہ اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت سے کہا کہ ملالہ یوسفزئی پر کیے گئے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں شدت پسند تنظیموں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا نام بھی شامل کیا جائے اور اُن کے خلاف جلد از جلد کارروائی کی جائے۔

قائمہ کمیٹی برائے اُمور داخلہ نے احسان اللہ احسان کے خلاف تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ’جے آئی ٹی‘ قائم کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔

ملالہ یوسفزئی پر 2012ء میں خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب وہایک گاڑی میں اسکول سے واپس اپنے گھر جا رہی تھیں، بعد ازاں ملالہ کو علاج کے لیے برطانیہ لے جایا گیا تھا، جہاں وہ اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے رکن سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف فوجی عدالت میں کارروائی کی جانی چاہیئے۔

’’اس (احسان اللہ احسان) کو کیوں ہیرو بنایا جا رہا ہے، اُسے کیوں خصوصی توجہ دی جا رہی ہے وہ ایک دہشت گرد اور اس کے ساتھ ویسا ہی رویہ روا رکھا جائے۔۔۔ اس کا جلد از جلد فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔۔۔ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیئے، کوئی معافی نہیں ہونی چاہیئے۔‘‘

اس سے قبل احسان اللہ احسان کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں تین رٹ پٹیشن دائر کی جا چکی ہیں جن میں اُن کے خلاف خلاف پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کا مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اپریل کے اوائل میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بتایا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے دھڑے جماعت الاحرار کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔

بعد ازاں اپریل کے اوخرا میں پاکستانی فوج کی طرف سے احسان اللہ احسان کا ایک وڈیو اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا جس میں احسان اللہ احسان نے بتایا کہ اس کا اصل نام لیاقت علی اور تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔

احسان اللہ احسان کے اس اعترافی کے بعد فوج کو بھی تنقید کا سامنا رہا، تاہم رواں ہفتے ایک نیوز کانفرنس میں فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

’’احسان اللہ احسان کا جو اعترافی بیان جاری کیا گیا، اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ پتہ چلے وہ کس طریقے سے ہمارے خلاف استعمال ہوتے رہے اور کیا قوتیں ہیں جو اُن کو استعمال کر رہی ہیں۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُس کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔۔۔ جو بھی ملک قانون ہے وہ اس پر لاگو ہو گا۔‘‘

واضح رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دسمبر 2014ء میں ہونے والا دہشت گرد حملہ ملکی تاریخ کا بدترین واقعہ تصور کیا جاتا ہے جس میں 120 سے زائد طلبا سمیت لگ بھگ 150 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG