رسائی کے لنکس

ملیر کنٹونمنٹ کی انتظامیہ کے مطابق منڈی میں عام جانوروں کے لئے 21بلاک بنائے گئے ہیں جبکہ وی آئی پی کیٹیگری میں رکھے جانے والے جانوروں کے لئے6بلاک ہیں

کراچی میں عیدالاضحی کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں اور قربانی کی غرض سے کراچی لائے جانے والے جانوروں کی منڈی سپرہائی وے پر سج گئی ہے۔

یہ کراچی کی سب سے بڑی منڈی کہلاتی ہے۔ اگرچہ, حکومت کی جانب سے اندرون شہر جانوروں کی منڈیاں لگانے پر پابندی عائد ہے, لیکن اس کے باوجود شہر کے اکا دکا علاقوں میں چھوٹی موٹی منڈیاں لگائی جاتی ہیں۔

سپرہائی وے کی مویشی منڈی کا باقاعدہ افتتاح بدھ کی شام ہوا۔ فی الوقت اس منڈی میں جانوروں کی تعداد کم ہے لیکن منڈی کے لگتے ہی یہاں ملک بھر سے جانوروں کی آمد شروع ہوجائے گی۔ مویشی منڈی کے منتظمین نے وی او اے کو بتایا کہ منڈی تقریباً ایک ہزار ایکٹر رقبے پر محیط ہے۔ اتنے بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی منڈی کے لئے بجلی اور پانی کے علاوہ دیگر سہولیات بہم پہنچانے کے بھی خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔

جانوروں کے ایک آڑہتی محفوظ علی نے بتایا کہ سندھ کے علاقوں جن میں نواب شاہ اور میرپورخاص سرفہرست ہیں وہاں کے جانورمنڈی پہنچ گئے ہیں، جبکہ پنجاب سے جانوروں کی ابھی بہت کم تعداد یہاں پہنچی ہے۔ آئندہ دوچار روز میں پنجاب کے جانوروں کی تعداد بھی ہزاروں تک پہنچ جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق ہرسال 3سے 4لاکھ جانور کراچی لائے جاتے ہیں۔

منڈی کے تمام انتظامات ملیر کنٹونمنٹ کے ذمے ہیں ۔جانوروں کے ایک بیوپاری حسیب الرحمن کے بقول مویشی منڈی میں ہرسال کروڑوں روپے کا لین دین ہوتا ہے۔ فارم ہاوٴس کے ایک ایک جانور کی قیمت لاکھوں میں ہے۔ ایسے میں حفاظتی انتظامات پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ گوکہ پچھلے کچھ سالوں سے نقد رقم کے بجائے بینکوں کے ذریعے بھی رقم کا لین دین ہورہا ہے لیکن جانوروں اور یہاں آنے والے گاہکوں اور منڈی کے تاجروں اور آڑتیوں کی حفاظت کے لئے پولیس اور رینجرز تعینات کی جاتی ہے۔

ملیر کنٹونمنٹ کی انتظامیہ کے مطابق منڈی میں عام جانوروں کے لئے 21بلاک بنائے گئے ہیں جبکہ وی آئی پی کیٹیگری میں رکھے جانے والے جانوروں کے لئے 6بلاک ہیں۔ منڈی میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے سٹی وارڈنز تعینات کیے گئے ہیں۔ منڈی میں داخلے کے آٹھ راستے ہیں۔ ان راستوں پر حفاظت کی غرض سے کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG