رسائی کے لنکس

کراچی: آٹھویں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز


کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کا عنوان ’نفاذ اردو، مسائل و امکانات‘ تھا۔ معروف افسانہ نگار انتظار حسین نے کہا ہے کہ ’ہمیں ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے تاریخی ورثے اور مذہبی اقدار کو محفوظ رکھنے کی تدابیر کرنی چاہئیں‘

کراچی: ہر سال کی طرح اس بار بھی 'عالمی اردو کانفرنس' کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں عالمی شہرت یافتہ شعرا، مصنفین اور اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔

کانفرنس کا آغاز منگل کے روز آرٹس کونسل آف پاکستان میں ہوا۔ اردو زبان و ادب کی اہمیت کے حوالے سے مختلف سیشن اور دیگر پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں، جو چار روز تک عالمی کانفرنس کا حصہ بنے رہیں گے۔

آرٹس کونسل کراچی کے صدر، اعجاز فاروقی نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’آٹھویں اردو کانفرنس کی خاص بات یہ ہے کہ اس سے قبل پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اردو کے نفاذ کے سلسلے میں واضح ہدایات دی ہیں، جس کے باعث عالمی کانفرنس کے سلسلے میں جان پڑ گئی ہے۔۔ نہ صرف یہ بلکہ اسی تناسب سے اس دفعہ پروگرام رکھے گئے ہیں۔‘

اعجاز فاروقی کے مطابق، ’کراچی کی عالمی اردو کانفرنس شہر، ملک نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر جانی جاتی ہے۔ یہ آرٹس کونسل کا یہ منفرد اعزاز ہے کی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد یہاں ہوتا ہے، جو کہ ایک اہم فریضہ ہے‘۔

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کا عنوان ’نفاذ اردو، مسائل و امکانات‘ تھا۔ اجلاس سے خطاب میں معروف افسانہ و ناول نگار، انتظار حسین نے کہا کہ ’ہمارا تاریخی ورثہ اور مذہبی اقدار ترقی کی راہ میں حائل ہوتی جا رہی ہیں‘۔

بقول اُن کے، ’ہمارے مذہب کے نشانات مٹائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں کیا ہوگا۔ ہم اتنے زمانے سے انگریزی پڑھ رہے ہیں۔ مگر آج بھی الفاظ کا غلط ترجمہ کرتے ہیں۔ ہمیں ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے تاریخی ورثے اور مذہبی اقدار کو محفوظ رکھنے کی تدابیر کرنی چاہیئیں۔‘

معروف بھارتی ادیب و دانشور، شمیم حنفی نے اردو کانفرنس کے پہلے اجلاس سے خطاب کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’اردو زبان مختلف خانوں میں بٹی ہوئی ہے اور اردو کے مسائل یکساں نہیں ہیں۔‘

بقول شمیم حنفی، ’انسانوں کی طر ح، زبانیں بھی سفر کرتی ہیں۔ بیسویں صدی میں ہم نے بہت کچھ کھویا اور بہت کم پایا۔ اردو صرف ہندوستان اور پاکستان کے مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔ اسے درجن سے زائد زبانوں نے جنم دیا ہے اردو کا دائرہ اب بہت دور تک پھیل چکا ہے‘۔

بین الاقوامی شہرت یافتہ اردو ادیب، ابوکلام قاسمی کا کہنا تھا کہ ’اردو زبان میں اصطلاحات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ماحول سازی کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور سیاسی طور پر سیاسی شخصیات کو شامل کرنا اور انہیں مجبور کر نا لازمی ہے‘۔

اجلاس میں معروف مصنف انتظار حسین، ڈاکٹرشمیم حنفی، زہرا نگاہ، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، فرہاد زیدی، پروفیسر سحر انصاری، کشور ناہید، ڈاکٹر قاسم بگھیو، عالیہ امام، ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی، محمود السلام، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، حسینہ معین اور امداد حسینی بطور خصوصی مہمانان مدعو تھے۔

کانفرنس کے پہلے روز اردو کے نفاذ، اہمیت، نصاب تعلیم میں اردو پر تبصرے کئے گئے۔ پہلے اجلاس کے دوران ضیاء محی الدین نے اردو کلاسیکی ادب کے منتخب حصے پڑھے۔

آٹھویں عالمی اردو کانفرنس میں اردو مشاعرے، مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اردو کی اہمیت، اردو زبان کے دیگر زبانوں سے تعلقات، خطے میں اردو کے فروغ، اردو زبان، ادب و اہمیت کے اعتبار سے مختلف پروگرام رکھے گئے ہیں، جن میں بھارت، ناروے، امریکہ، ڈنمارک، برطانیہ اور دیگر ممالک سے مصنفین و شعرا مدعو کئےگئے ہیں۔ کانفرنس کے دوران، مختلف مصنفین کی کتابوں کی رونمائی بھی ہوگی۔

آٹھویں عالمی اردو کانفرنس کا سلسلہ 11 دسمبر تک جاری رہےگا۔

XS
SM
MD
LG