رسائی کے لنکس

کراچی میں انتخابی مہم کی روایتی گہما گہمی مفقود


کراچی کی فضاء ماضی کی طرح پرجوش نہیں ہے۔ ابھی تک کسی بھی بڑی جماعت نے حتیٰ کہ شہر کی با اثر سیاسی جماعتوں نے بھی کوئی بڑا جلسہ منعقد نہیں کیا۔

ملک بھر میں جلسوں کے ’رونق میلوں‘ نے زور پکڑ لیا ہے ۔ بھنگڑے، ڈھول تماشے، رقص اور ایک دوسرے کو کامیابی کی دعاؤں نے یوں تو انتخابات کا رنگ جما دیا ہے لیکن اس سب کے باوجود کراچی کی فضاء پہلے کی طرح پرجوش دکھائی نہیں دیتی۔ ابھی تک کسی بھی بڑی جماعت نے حتیٰ کہ شہر کی با اثر سیاسی جماعتوں نے بھی کوئی بڑا جلسہ یا جلوس منعقد نہیں کیا۔ گو کہ شہر کے مختلف علاقوں میں چھوٹے چھوٹے الیکشن دفتر کھل گئے ہیں لیکن ان میں روایتی جوش و خروش مفقود ہے۔

کراچی کے حوالے سے نگراں وزیرداخلہ کا اندیشہ
سیکورٹی خدشات کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں نے ماحول کو مزید سہما دیا ہے۔ پیر کے روز نگراں وزیرداخلہ ملک حبیب نے انتخابات کے دوران سیکورٹی خدشات کا ایک مرتبہ پھر اندیشہ ظاہر کیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کے پیش ِنظر سیکورٹی خدشات اپنی جگہ درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ جلد ہی کراچی کی بڑی سیاسی جماعتوں اور رینجرز حکام سے ملاقات کریں گے۔

کراچی میں 50 فیصد پولنگ اسٹیشنزحساس قرار
ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام شبیر شیخ نے کہا ہے کہ شہر میں چار ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے جارہے ہیں جن میں سے 50 فیصد سے زائد پولنگ اسٹیشنز 'انتہائی حساس' ہیں۔ پیر کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر شیخ نے کہا کہ خاص کر ضلع غربی کراچی کے تمام پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حساس مقامات پر سیکورٹی کے پیش ِنظر پولیس اور رینجرز کی مشترکہ ٹیمیں تعینات کی جائیں گی جبکہ ان پولنگ اسٹیشنز کے لئے خصوصی حکمت ِعملی بھی تیار کرلی گئی ہے۔ یہاں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوج کو اسٹینڈ بائی رکھا جائے گا۔

عمران خان اورنواز شریف کے جلسے
کراچی کے مقابلے میں پنجاب اور دیگر صوبوں کے مختلف شہروں میں سیاسی جلسے اور جلوس اپنے جوبن پر ہیں۔ ہر روز کسی نہ کسی سیاسی جماعت کا جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ پیر کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے لوئر دیر میں ایک بڑا سیاسی جلسہ منعقد کیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نے بھی سندھ کے شہر ٹنڈو الہ یار میں جلسہ منعقد کیا اور عوام سے ووٹ دینے کی اپیل کی۔ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں متحدہ قومی موومنٹ نے جلسہ منعقد کیا جس سے پارٹی سربراہ الطاف حسین نے خطاب کیا۔

خواتین کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔۔
ماضی کے مقابلے میں خواتین کے لئے زیادہ سازگار ماحول ہونے کے باوجو د انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ انگریزی اخبار ’ڈان‘ کے مطابق انتخابات میں قومی اسمبلی کی 272 نشستوں کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے مجموعی طور پر 36خواتین الیکشن لڑ رہی ہیں۔2008میں 34اور 2002کے الیکشن میں 38خواتین نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں خواتین امیدواروں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔

انتخابات میں بھی خواتین ’نمایاں‘
الیکشن 2013میں سیاسی افق پر موجود کئی نمایاں خواتین بھی حصہ لے رہی ہیں۔ ان خواتین میں قومی اسمبلی کی سابق اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا بدین سے قومی اسمبلی کی نشست جیت کر ’ہیٹ ٹرک‘ مکمل کرنے کی خواہش مند ہیں۔صدر آصف علی ذرداری کی دو بہنیں ڈاکٹر عذرا افضل پیچو نواب شاہ سے اور فریال تالپور لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی امیدوار ہیں۔

سابق وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سیالکوٹ کے دو حلقوں این اے 110اور این اے 111سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کی اہلیہ بشری اعتزاز پہلی بار لاہور سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔

پی ایم ایل کیو کی سابق ایم این اے سمیرا ملک پی ایم ایل این کے ٹکٹ پر خوشاب کے حلقہ این اے69 سے امیدوار ہیں جبکہ ان کی بہن عائلہ ملک خواتین کی مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کی امیدوار ہیں۔

احمدی برداری کی جانب سے انتخابات کا بائیکاٹ
پاکستان کے اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والی احمدی برداری نے آئندہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ ’جماعت احمدیہ‘ کے ترجمان سلیم الدین نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ احمدی جماعت کے دو لاکھ افراد انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ احمدی برداری کو اقلیت قرار دینے کے خلاف بطور احتجاج ان کی جماعت 1985 سے انتخابات کا بائیکاٹ کرتی چلی آرہی ہے اور آئندہ الیکشن میں بھی یہ سلسلہ برقرار ہے گا۔ انہوں نے کہا کہ احمدی برداری کا مطالبہ ہے کہ انہیں اقلیت کے بجائے جوائنٹ الیکٹورل سسٹم کا حصہ بنایا جائے۔
XS
SM
MD
LG