رسائی کے لنکس

سیکورٹی خدشات کے باوجود انتخابی سرگرمیاں عروج پر

  • کراچی

انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سیاسی رہنماوٴں، خصوصاً پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی کو، ریلیوں اور پبلک میٹنگز میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت کی ہے

سیکورٹی خدشات کے باوجود، ملک میں عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ انتخابی میدان کی آخری جنگ سے پہلے سبھی اپنی اپنی تیاریاں پوری کرنے میں مصروف ہیں۔

کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی ڈیڈ لائن آج رات بارہ بجے ختم ہورہی ہے۔ اس انتخابی ہلچل میں کیا کچھ نیا ہوا آیئے ذیل میں ایک تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

بیلٹ پیپر میں خالی خانہ شامل کرنے کا فیصلہ موخر

الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپر میں خالی خانہ شامل کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے حوالے سے مقامی میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ بیلٹ پیپر میں خالی خانہ شامل کرنے میں بعض قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ جبکہ، انتخابی شیڈول کے بعد انتخابی عمل میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔حالانکہ، مبصرین کی رائے میں اگر واقعی ایسا ہو جاتا تو ووٹنگ ٹرن آوٴٹ کہیں کا کہیں جا پہنچتا۔

انتخابات اور سیکورٹی خدشات

امن وامان کی خراب صورتحال کے پیش نظر انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سیاسی رہنماوٴں خصوصاً پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹوزرداری اورعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کوممکنہ درپیش خطرات کی وجہ سے ریلیوں اور پبلک میٹنگز میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے تمام امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے دعوے کے ساتھ پولیس کے ساتھ ساتھ آرمی، ایف سی اور رینجرز کی خدمات بھی حاصل کرلی تھیں تاہم ان اداروں پر ہونے والے مسلسل حملوں نے سیاسی جماعتوں اور قائدین کیلئے دہشت سے پاک فضا فراہم کرنے کا الیکشن کمیشن کا دعویٰ یا وعدہ پورا کرنے کے حوالے سے خدشات پیدا کردئیے ہیں۔

امیدواروں کی ہلاکتیں اور سیاسی رہنماوٴں کو لاحق خطرات

دہشت گردی کی لہر میں کراچی کے علاقے اورنگی ٹاوٴن میں پیپلزپارٹی ک اایک امیدوار مارا گیا، جبکہ بنوں میں اے این پی کا رہنما نشانہ بنا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما بالخصوص خطرے میں ہیں۔ جن قائدین کو اپنی انتخابی سرگرمیاں محدود کرنے کو کہاگیا ہے ان میں پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری، اے این پی کے صدر اسفندیارولی اور ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹرفاروق ستار شامل ہیں۔

اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی جو اپنے آبائی حلقے چارسدہ سے ہی کھڑے ہوئے ہیں، عوام میں جانے کے بجائے ویڈیولنک کے ذریعے عوامی خطاب کریں گے۔ ایم کیوایم کی مہم کے روح رواں، شعلہ بیاں مقررین ڈاکٹرفاروق ستار اور حیدرعباس رضوی کو درپیش سیکورٹی مسائل نے انتخابی مہم کو بہت کٹھن بنادیاہے۔ کراچی میں ایم کیوایم کی حریف جماعتوں کو بھی اسی دباوٴ کا سامناہے۔

بلوچستان میں بلوچ نیشنل پارٹی(م) کے سربراہ سرداراخترمینگل نے بھی انتخابی مہم چلانے میں مشکلات کا اظہار کیا ہے۔مسلم لیگ(نواز) کے رہنماوٴں کو بھی سیکورٹی کے حوالے سے احتیاط کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ نوازشریف کے اردگرد سیکڑوں پرائیویٹ اور پولیس کمانڈوز دیکھے جاسکتے ہیں۔ سابق صدر پرویزمشرف کو بھی یہی تاکید کی گئی ہے کہ عوامی مہم کے بجائے کمروں کی میٹنگز تک محدود رہیں۔

الیکشن کمیشن نے ایسے 100سے زائد حلقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں انھیں دہشت گردی سے پاک انتخابات کرانے کے لیے فوج کی ضرورت ہے۔

کاغذات نامزدگی 22 ہزار سے زائد ۔۔

ملک بھر میں جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی 22 ہزار سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ان میں سے 16 ہزار کاغذات کی ابتدائی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ 3 ہزارافراد کے کاغذات کو ویب سائٹ پر جاری کردیاگیا ہے۔ جانچ پڑتال کا وقت ختم ہونے والا ہے اور نیب، نادرا، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک سے تقریباً 7 ہزار امیدواروں کی ابتدائی جانچ پڑتال ہونا باقی ہے۔

سالوں بعد انتخابی دنگل میں واپس آنے والے امیدوار

متحدہ قومی موومنٹ کے دو متوقع امیدواروں نے سیاست میں طویل عرصے بعد واپسی کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ ایم کیو ایم کے سابق سیکریٹری اطلاعات امین الحق 23 سال جبکہ رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 16سال بعد دوبارہ انتخابی میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امین الحق نے 1988 اور 1990 میں ایم کیو ایم کی جانب سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ جبکہ، آنے والے انتخابات کے لئے انہوں نے کراچی کے حلقے این اے 241 اور 242 سے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔

انہی کی طرح ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے آخری بار 1997 کے انتخابات میں ایم کیو ایم کی جانب سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا اور کامیابی کے بعد بطور وفاقی وزیر پیداوار فرائض بھی انجام دئیے تھے۔ انہوں نے 1990کے عام انتخابات میں حیدرآباد سے ایم کیو ایم کی جانب سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔آئندہ انتخابات میں وہ کراچی اور حیدرآباد سے انتخاب لڑیں گے۔
XS
SM
MD
LG