رسائی کے لنکس

سیاسی جماعتوں کے وعدوں، دعووٴں اور نعروں میں شدت آتی جار ہی ہے۔ اور یوں، سیاسی رونقوں میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہاہے، اور کہیں نئے اتحاد بنانے کے لئے مشورےجاری ہیں

پاکستان میں جوں جوں انتخابات نزدیک آرہے ہیں، سیاسی جماعتوں کے وعدوں، دعووٴں اور نعروں میں شدت آتی جار ہی ہے۔ اور یوں، سیاسی رونقوں میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کہیں نئے اتحاد بنانے کے لئے مشورےجاری ہیں تو کہیں انتخابات جیتنے کے لئے خود کو ’مسٹر کلین‘ کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرنے کے جتن ہورہے ہیں۔

اس مرتبہ تو خواجہ سرا بھی کمر کس کر میدان میں آگئے ہیں۔۔۔اپنی تقدیر کے ساتھ ساتھ ملک کی بھی تقدیر بدلنے کا عزم لے کر۔۔۔اس کے علاوہ کل رات سے آج رات تک انتخابی سرگرمیوں کا رخ کیا رہا آئیے ذیل میں اس پر ایک تفصیلی نظر ڈالتے ہیں:

انتخابی عملے کو تھپڑ مارنے کی سزا کالعدم

انتخابی عملے کو تھپڑ مارنے کے جرم میں سزا پانے والی پیپلز پارٹی کی رہنما وحیدہ شاہ کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔ جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے وحیدہ شاہ کی الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے خلاف جمعہ کو درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے وحیدہ شاہ کی نااہلی کا حکم معطل کرتے ہوئے ریٹرنگ افسر کو ہدایت کی کہ وہ کاغذات نامزدگی وصول کرے اور وحیدہ شاہ کی نااہلی کو بنیاد نہ بنائے۔

انتخابی عملے کو تھپڑ مارنے پر عدالت نے وحیدہ شاہ کو ایک سال قبل 7 مارچ 2012 ءکو 2 سال کے لیے نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد وحیدہ شاہ نے پولنگ عملے پرتشدد کے واقعے کوغلط فہمی کانتیجہ قراردیتے ہوئے معافی مانگ لی تھی۔

سوشل میڈیا پر پرویز مشرف کا جادو چل گیا، عمران خان سے آگے

سابق صدر پرویز مشرف کی مقبولیت کا جادو سوشل میڈیا پر سر چڑھ کر بول رہا ہے اور یہ وہ محاذ ہے جس پر وہ تحریک انصاف کے رہنما عمران خان سمیت اپنے مخالفین سے کہیں آگے ہیں۔ ’فیس بک‘ پر مشرف کے پیج کو ’ لائیک‘ یعنی پسند کرنے والوں کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی جبکہ ’ٹاکنگ اباوٴٹ دس‘ میں حصہ لینے والوں کی تعداد دو لاکھ ہے۔

اس کے مقابلے میں عمران خان کے پیج کو ’لائیک‘ کرنے والوں کی تعداد6 لاکھ 88ہزار 416 اور ”ٹاکنگ اباوٴٹ دس“ کی تعداد70 ہزارسے زیادہ ہے۔مشرف کے پیج کی مقبولیت میں اس وقت تیزی سے اضافہ ہوا جب انہوں نے پاکستان واپسی کا اعلان کیا۔

ہزاروں لوگوں کا عارضی روزگار لگ گیا
الیکشن کی سرگرمیاں شروع ہوتے ہی الیکشن سے جڑی معاشی سرگرمیاں بھی عروج پر پہنچ گئیں اور ہزاروں افراد کو عارضی روزگار مل گیا ہے۔ یہاں تک پارٹی کارکنوں میں جوش و خروش پیدا کرنے کے لئے ڈھول بجانے والوں کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔

بعض سیاسی جماعتوں نے ووٹرز کو ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کے لئے آمادہ کرنے کے لئے موبائل کمپنیوں سے معاہدے کر لئے ہیں۔ بینر، پینافلیکس، کھانے کے لئے سیاسی ورکروں کے ساتھ ساتھ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی بھی ایڈوانس خدمات حاصل کرلی گئی ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں نے ٹرانسپورٹ بھی ایڈوانس میں بک کرالیا گیا ہے۔

خواجہ سراوٴں نے بھی کمر کس لی

اس بار خواجہ سراوٴں نے بھی کراچی سے عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 2خواجہ سراوٴں بندیا رانا اور مظہر انجم نے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 115اور 130 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے اپنے حلقوں میں کامیاب ہو گئے تو صرف چھ مہینے میں سب کچھ بدل کر رکھ دیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے ”آزمائے ہوئے کو نہ آزمائیں، ہم سے ہاتھ ملائیں“ کا نعرہ بھی لگایا اور کہا کہ بہت سی جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات چل رہی ہے مگر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

سندھ کی قوم پرست جماعتیں آپسی اختلافات بھول گئیں

الیکشن کے قریب آتے ہی سندھ کی قوم پرست جماعتیں بھی اپنے اپنے اختلافات بھلا کر انتخابی اتحاد کرنے کے موڈ میں آگئی ہیں۔

قومی عوامی تحریک اور سندھ ترقی پسند پارٹی نے ووٹ بینک ٹوٹنے سے بچانے کے لئے صلح کر لی۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما ڈاکٹر قادر مگسی نے پریس کانفرنس سے خطاب میں سندھ کے حلقے پی ایس ۔47سے عوامی تحریک کے حق میں دستبردار ہونے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ ڈاکٹر مگسی کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اتحاد برقرار رکھنے اور سندھ کے عوام سے کئے گئے اس وعدے کو نبھانے کے لئے کیا ہے کہ قوم پرست جماعتیں متحد ہوکر انتخابات لڑیں گی اور مشترکہ امیدوار کے ساتھ انتخابی اکھاڑے میں اتریں گی۔

قومی عوامی تحریک اور سندھ ترقی پسند پارٹی سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ساتھ ’سندھ پروگریسو نیشنلسٹ الائنس‘ کا حصہ ہیں۔ قوم پرست رہنما لطیف پلیجو نے ڈسرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں حلقہ پی ایس۔47کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر قادر مگسی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قوم پرست جماعتیں ایک کے دوسرے کے خلاف الیکشن نہیں لڑیں گی۔

ن لیگ کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم پہاڑبن گئی

انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم پاکستان مسلم لیگ ن کے لئے ایک ایسا پہاڑ بن گئی جسے سر کرنے میں کافی مشکلات ہیں۔ پارٹی بلوچستان کے لئے امیدواروں کا انتخاب دو دن پہلے ہی کرچکی ہے لیکن پنجاب میں یہ معرکہ سر ہونے میں نہیں آ رہا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی ڈیڈ لائن 31مارچ کو ختم ہو رہی ہے اور اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پارٹی کے سربراہ نواز شریف نے تمام پارٹی امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ کے بغیر کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسروں کے پاس جمع کروانے کی ہدایت کردی ہے۔

پی ایم ایل ن کے ذرائع نے’ایکسپریس ٹربیون‘ سے بات چیت میں کہا کہ ملک بھر سے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہشمند 3,200امیدواروں نے درخواست دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت اب تک پنجاب کے دو ڈویژن ملتان اور بھاولپور کے لئے جزوی طور پر امیدوار فائنل کر چکی ہے۔
XS
SM
MD
LG