رسائی کے لنکس

پاکستان میں عام انتخابات : کم وقت اور مقابلہ سخت


قمرالزاماں کائرہ

قمرالزاماں کائرہ

پیپلزپارٹی کی قیادت کے مطابق ان کی حکومت 16مارچ 2013ء کو اپنی آئینی مدت پوری کر رہی ہے جس کے بعد نگراں حکومت کو تین ماہ کے اندر اندر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا ہوگا

وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں بروقت عام انتخابات ،الیکشن کمیشن کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو دبئی میں پریس کانفرنس کے دوران کہی ۔ آزاد مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب حکمراں جماعت کے کسی عہدیدارنے الیکشن کمیشن سے متعلق اس طرح کا بیان دیا ہو۔

پیپلزپارٹی کی قیادت کے مطابق ان کی حکومت 16مارچ 2013ء کو اپنی آئینی مدت پوری کر رہی ہے جس کے بعد نگراں حکومت تین ماہ کے اندر اندر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گی۔ اس طرح الیکشن کمیشن کے پاس تقریباً چھ ماہ کا وقت ہے جس میں اس نے انتخابات کیلئے حتمی تیاری مکمل کرنی ہے۔

صورتحال کا تفصیلی جائزہ

اگر صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو بہت سے مبصرین وزیر اطلاعات کے اس بیان سے متفق نظر آ تے ہیں۔ خاص طور پر کراچی میں نئی حلقہ بندیوں اور ازسرنو ووٹر لسٹوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے تحفظات کے باعث مختلف حلقوں میں مختلف سوالات زیر گردش ہیں۔

ایک روز پہلے جمعرات کو کراچی میں انتخابی فہرستوں سے بوگس ووٹ نکالنے اور درست فہرستیں تیار کرنے سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ شہر میں فوج اور ایف سی کی مدد سے ووٹرز کی تصدیق کی جائے۔اس سے پہلے کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ شہر میں نئی حلقہ بندیوں کا حکم بھی دے چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق کراچی میں فوج بلانے کا عمل ایک ضابطے کے تحت ہوتا ہے اور اس کیلئے کچھ وقت بھی درکار ہوتا ہے۔ یہ معاملہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ فوج کے عملے کیلئے رہائش، کھانا، ٹرانسپورٹ اور دیگر معاملات پر جو اخراجات آئیں گے اس کیلئے الیکشن کمیشن کو فنڈز کی بھی ضرورت ہو گی۔

سب سے اہم معاملہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال ہے جسے گھر گھر جا کر ووٹر لسٹوں کی تیاری میں بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی اس دوران ناخوشگوار واقعہ پیش آ جائے تو یہ تمام عمل متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

ووٹ کہاں ڈالیں؟

پھر، کراچی میں رہائش پذیر ان افراد کا معاملہ بھی گھمبیر نظر آتا ہے جن کے شناختی کارڈز پر دو ایڈریس درج ہیں۔ یعنی ایک مستقبل پتہ ۔۔ جہاں وہ پیدا ہوئے اور دوسرا عارضی پتہ
(یعنی کراچی کا)۔

نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی، یعنی ’نادرا‘ کے ریکارڈ کے مطابق ایسے ووٹرز کی تعداد 10 لاکھ ہے جن میں خیبر پختونخواہ کے چار لاکھ ستر ہزار، پنجاب کے چار لاکھ انیس ہزار اور بلوچستان کے ترپن ہزار افراد شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ اپنا ووٹ کہاں ڈالیں گے، یہ حتمی فیصلہ بھی الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔

اس کے علاوہ نئی حلقہ بندیوں پر بھی مختلف جماعتوں کے تحفظات ہیں۔

ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ اس عمل کیلئے ملک بھر میں نئی مردم شماری ضروری ہے۔اب الیکشن کمیشن ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے تحفظات کیسے دور کر سکتا ہے اور اس میں کتنا وقت لگے گا یہ امر بھی اہم ہے۔اس تمام تر صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے الیکشن کمیشن نے جمعہ کو اہم اجلاس طلب کر رکھا تھا۔ تاہم، وہ بھی نامعلوم وجوہات کی بنا پر ملتوی کردیا گیا۔
XS
SM
MD
LG