رسائی کے لنکس

امریکہ میں الیکٹرانک کتابوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ


امیزان کا ڈیجیٹل بک ریڈر ’کنڈل‘

امیزان کا ڈیجیٹل بک ریڈر ’کنڈل‘


ایسوسی ایشن آف امریکن پبلشرز کا کہنا ہے کہ جون کے مہینے میں الیکٹرانک بک کی فروخت ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو گذشتہ سال اسی مہینے کے دوران ہونے والی فروخت سے 150 فی صد سے زیادہ تھی۔

چھوٹے سائز کے ڈیجیٹل بک ریڈرز بنانے والوں نے بھی فروخت میں اضافے کی خبر دی ہے۔ انٹرنیٹ پر کتابیں فروخت کرنے والے بڑے ادارے ایمیزان کا بھی کہنا ہے کہ اس کی ڈیجیٹل بک ’کنڈل‘ کی فروخت 2007ء میں اپنے منظر عام پر آنے کے بعد سے توقعات سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ وائرلس سے منسلک الیکٹرانک بک ریڈرز کنڈل کی مدد سے صارفین انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل کتابیں خرید کر اسے سکرین پر پڑھ سکتے ہیں۔

ای بک ریڈرز نامی یہ چھوٹا سا کم وزن آلہ ایک عام رسالے کی طرح کا ہوتا ہے جس میں سینکڑوں ڈیجیٹل کتابیں محفوظ کی جاسکتی ہیں۔ بک ریڈر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ باآسانی لے جایا جاسکتا ہے اور وائرلس انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے اس میں کتابیں ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہیں۔کچھ بک ریڈرز میں کتاب کو پڑھ کرسنانے کی خصوصیت بھی موجود ہوتی ہے۔

کمپیوٹر پر انحصار کرنے والے امریکی معاشرے میں ایسی مصنوعات کی مانگ روز بروز بڑھ رہی ہے جنہیں ہر وقت ہر جگہ اپنے ساتھ رکھا جاسکے، الیکٹرانک کتابوں اور انہیں پڑھنے کے لیے ڈیجیٹل ریڈرز کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایمیزان ڈاٹ کام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تین لاکھ سے زیادہ الیکٹرانک کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ وہ بیسٹ سیلر اور نئی شائع ہونے والی ہر کتاب الیکٹرانک بک کی شکل میں تقریباً دس ڈالر میں فروخت کرتا ہے، جب کہ کاغذ چھپی ہوئی ان کتابوں کی قیمت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

کئی مصنفین اور اشاعتی اداروں نے کتاب کو منظر عام پر لانے تک پر اٹھنے والے اخراجات، مثلاً پرنٹنگ، ترسیل اور ان کو ذخیرہ کرنا وغیرہ میں بچت کے لیے اپنی کتابیں ڈیجیٹل شکل میں شائع کرنی شروع کر دی ہیں۔جس سے انہیں کاغذ پر چھپنے والی کتاب کے مقابلے میں لگ بھگ 12 فی صد کی بچت ہو رہی ہے۔

پراسرار موضوعات پر ناول لکھنے والی مصنفہ(Identity Crisis کی مصنفہ) ڈیبی میک کی کتابیں الیکٹرانک شکل میں فروخت ہوتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اشاعت مصنفین کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس طریقے سے بہت سی ان پرانی اور نایاب کتابوں جو ایک عرصے سے دوبارہ شائع نہ ہو رہی ہوں، مارکیٹ میں واپس لانے کے بہت سے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ کو اپنی کتاب کی اشاعت کے لیے کوئی پبلشر نہ مل سکے، مگر آپ یہ جانتے ہوں کہ آپ کی کتاب معیاری ہے تو کے پاس اسے چھپوانے کا یہ ذریعہ موجود ہے۔

لیکن کچھ ناقدین کہتے ہیں کہ الیکٹرانک کتابیں کاغذ پر چھپنے والی روایتی کتابوں کا بدل نہیں ہوسکتیں۔ مصنفہ یوجینا کم (The Calligrapher's Daughter کی مصنفہ) کا نیا ناول دونوں اشکال میں دستیاب ہے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ انہیں روایتی کتاب پڑھنا زیادہ پسند ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ہم کاغذ پر چھپی ہوئی کتاب کا ورق پلٹتے ہیں تو اس کا ایک اپنا ہی لطف ہے۔

تاہم بہت سے ناشر ابھی الیکٹرانک اشاعت سے گریز کر رہے ہیں۔ رچرڈ پیاباڈی شاعری اور افسانوں کے مجموعے صرف روایتی شکل میں شائع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ کچھ لوگ سکرین پر کتابیں پڑھنا پسند نہیں کرتے۔ اگر آپ سارا دن کام کرتے ہیں اور سارا دن کمپیوٹر کے سکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہیں تو اس کے بعد آپ ایک اور سکرین دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔

اسی دوران ٹیکنالوجی سے متعلق اداروں میں اس بارے میں اختلافات موجود ہیں کہ بہت سی کتابوں کے ڈیجیٹل حقوق کسے ملنے چاہیں۔ ایمیزان، مائیکروسافٹ اور یاہو، لاکھوں کتابوں کے کاپی رائٹس گوگل کو دینے سے متعلق قانونی تصفیے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ان اداروں کا کہنا ہے کہ ایسے میں کہ جب زیادہ سے زیادہ صارفین الیکٹرانک ریڈرز کے استعمال کا انتخاب کریں گے یہ تصفیہ الیکٹرانک کتابوں کی مارکیٹ میں مقابلے کی فضا متاثر کرے گا۔

XS
SM
MD
LG