رسائی کے لنکس

امریکہ اور کیوبا کے سفارتی تعلقات مکمل طور پر بحال


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یہ پیش رفت پچاس سال زائد عرصہ سے کشیدہ تعلقات کی بحالی کے لیے حال ہی میں کیے گئے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

امریکہ اور کیوبا کے سفارتی تعلقات نے پیر کو ایک سنگ میل عبور کر لیا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں قائم اپنے ’سپیشل انٹرسٹس سیکشنوں‘ کو باضابطہ طور پر سفارتخانوں میں تبدیل کیا۔

یہ پیش رفت پچاس سال زائد عرصہ سے کشیدہ تعلقات کی بحالی کے لیے حال ہی میں کیے گئے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

سفارتخانوں کا کھلنا دونوں ممالک کے درمیان بند دروازے کے پیچھے ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ہوا۔

امریکن یونیورسٹی میں کیوبا سپیشلسٹ ولیم لیوگرینڈ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

’’لاطینی امریکہ کے ممالک سرد جنگ کے زمانے کی اس فرسودہ پالیسی سے تنگ آگئے تھے اور انہوں نے کولمبیا کے شہر کارٹیگینا میں ہونے والے امریکی براعظموں کے چھٹے سربراہ اجلاس میں صدر اوباما کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے صدر کو کہا کہ اگر کیوبا کو دعوت نہ دی گئی تو وہ آئندہ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔‘‘

جس کے بعد صدر اوباما نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک تاریخی اعلان کیا تھا کہ وہ کیوبا کے خلاف طویل عرصہ سے عائد تجارتی پابندیاں ختم کرکے سفارتی تعلقات دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے بعد سے دونوں جانب سے وفود واشنگٹن اور ہوانا میں مذاکرات کرتے رہے ہیں۔

سفارتی تعلقات میں جمود ٹوٹنے کا ایک اہم اشارہ امریکہ کی جانب سے کیوبا کا نام دہشت گردی کی معاون ریاستوں کی فہرست سے خارج کرنا تھا۔ صد اوباما نے 14 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ وہ کیوبا کو اس فہرست سے خارج کر دیں گے، جس کے بعد 45 روزہ نظر ثانی کی مدت شروع ہو گئی تھی جس کی معیاد 29 مئی کو ختم ہوئی۔

صدر اوباما نے کہا کہ کیوبا کو تجارتی اور سفری پابندیوں سے تنہا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا اور نہ اس سے وہاں جمہوریت اور ترقی کو فروغ ملا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ وقت نئی حکمت عملی اپنانے کا ہے۔

ولیم لیوگرینڈ کا کہنا تھا انہیں امید ہے کہ آنے والے ہفتوں میں امریکہ اور کیوبا کے درمیان تعلقات میں بحالی کے نتیجہ میں مشترکہ کوششوں کے نئے منصوبوں کا آغاز ہو گا۔ ان کی توقع ہے کہ دونوں ممالک منشیاب کی روک تھام، قانون کے نفاذ اور ماحولیات کے مسائل پر قریبی تعاون کریں گے۔

XS
SM
MD
LG