رسائی کے لنکس

مظاہرین کے مطالبات غیر آئینی ہیں: تھائی وزیرِ اعظم


ینگ لک شیناواترا نے کہا کہ پولیس مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرے گی، مگر قومی سلامتی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے وزیر اعظم کے دفتر کی طرف پیش قدمی کی دھمکی کے بعد اُن پر ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

تھائی لینڈ کی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وہ حکومت مخالف مظاہرین کے مطالبات پر عمل درآمد نہیں کر سکتیں کیوں کہ وہ غیر آئینی ہے۔

پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں وزیرِ اعطم ینگ لک شیناواترا نے تصدیق کی کہ اُنھوں نے حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے رہنما سوتپ تاگسوبان سے اتوار کو دیر گئے ملاقات کی تھی۔

تھائی وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس ملاقات کا اہتمام فوج نے کیا، جو خود کو اس سیاسی بحران میں غیر جانبدار گردانتی ہے۔

ینگ لک شیناواترا نے بتایا کہ سوتپ تاگسوبان کے یہ مطالبات کہ وہ استعفیٰ دیں، پارلیمان کو تحلیل کریں اور حکومت کی ذمہ داریاں غیر منتخب ’پیپلز کونسل‘ کو منتقل کریں، قوانین کے تحت ان پر عمل درآمد ممکن نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ عوام کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں مگر اُن کا کوئی بھی اقدام آئین کے تحت قانونی ہونا چاہیئے۔

وزیرِ اعظم ینگ لک نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کا پُر امن حل تلاش کرنے کی کوشش میں وہ ’’ہر در کھولیں‘‘ گی، جب کہ پولیس مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرے گی۔
تھائی لینڈ کی وزیرِ اعطم ینگ لک شیناواترا

تھائی لینڈ کی وزیرِ اعطم ینگ لک شیناواترا



وزیرِ اعظم شیناواترا کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اُن کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر امڈ آئے ہیں۔

تھائی وزیرِ اعظم کے بیان کے کچھ دیر بعد قومی سلامتی کے سربراہ نے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے ینگ لک کے دفتر کی طرف پیش قدمی کی دھمکی کے بعد اُن پر ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس تشدد نے بنکاک کے متوسط طبقے و شاہی اشرافیہ اور وزیرِ اعظم کے عمومی طور پر غریب و دیہاتی حامیوں کے درمیان تنازع کو نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

ینگ لک کے حامی اُن کے بھائی تکسن شیناواترا کی بھی حمایت کرتے ہیں، جنھیں 2006ء میں فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا اور وہ خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے صحافی کے مطابق مظاہرین نے بنکاک کے مرکز میں واقع وزیرِ اعظم کے دفتر ’گورنمنٹ ہاؤس‘ کے گرد پہلے حفاظتی حصار کو عبور کر لیا۔


مقامی پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اتوار سے آنسو گیس کا استعمال کر رہی تھی، مگر پیر کو اُنھوں نے اپنا ردِ عمل مزید سخت کر دیا۔

قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے رائٹرز کو بتایا کہ ’’ہم پانی، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا وقفے وقفے سے استعمال کر رہے ہیں۔ ربڑ کی گولیوں کا استعمال صرف گورنمنٹ ہاؤس کے قریب واقع پل کے ارد گرد کیا جا رہا ہے۔‘‘

حکومت مخالف احتجاج کی قیادت کرنے والوں میں شامل سوتپ تاگسوبان نے اتوار کی شب ینگ لک شیناواترا سے ملاقات کی تھی مگر اُنھوں نے واضح کیا کہ 2010ء میں ہوئی افراتفری کے بعد ملک میں اس بدترین سیاسی بحران کو ختم کرنے پر مذاکرات نہیں ہوئے۔
XS
SM
MD
LG