رسائی کے لنکس

مبالغہ آرائی کا جرم، نامور ٹیلی ویژن میزبان کی تنزلی


فائل

فائل

این بی سی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اُن کو عہدے سے ہٹا کر، ادارے کے ایک اور نیوز چینل ’ایم ایس این بی سی‘ کی ’بریکنگ نیوز‘ رپورٹس کی میزبانی پر مامور کیا گیا ہے۔۔ تنزلی سے قبل، ولیمز کے پروگرام دیکھنے والوں کی یومیہ تعداد تقریباً 90 لاکھ تھی، جب اُنھیں اندازً ایک کروڑ ڈالر سالانہ کی اجرت ملا کرتی تھی

مشہور امریکی ٹیلی ویژن نیوز کے رسوا ہونے والے میزبان، برائن ولیمز، جو ’این بی سی‘ نیٹ ورک کی رات کی خبروں کی نشریات کا ایک اہم جُزو خیال کیے جاتے تھے، اِن دِنوں اپنے کام پر نہیں آتے۔

نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اُن کو عہدے سے ہٹا کر، ادارے کے ایک اور نیوز چینل ’ایم ایس این بی سی‘ کی ’بریکنگ نیوز‘ رپورٹس کی میزبانی پر مامور کیا گیا ہے۔

چھپن برس کے ولیمز کو چھ ماہ قبل، فروری میں معطل کر دیا گیا تھا، جب اُنھوں نے یہ بات تسلیم کی تھی کہ عراق جنگ کے دوران کوریج میں، اُنھوں نے یہ غلط بیانی کی تھی کہ وہ امریکی ہیلی کاپٹر پر سوار تھے، جب دشمن نے اُس پر فائر کھول دیا تھا۔

این بی سی نے خبروں کی تقریبات سے متعلق ولیمز کی پیش کردہ روداد پر تفتیش کی تھی، جس دوران دوسرے معاملات بھی سامنے آئے جن میں اُنھوں نے مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا، زیادہ تر اُس وقت جب وہ رات گئے پیش کیے جانے والے ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں آیا کرتے تھے۔

تنزلی سے قبل، ولیمز کے پروگرام دیکھنے والوں کی یومیہ تعداد تقریباً 90 لاکھ تھی، جب اُنھیں اندازً ایک کروڑ ڈالر سالانہ کی اجرت ملا کرتی تھی۔

ایسے میں جب اُن کے خلاف مبالغہ آرائی کی خبریں سامنے آئیں، کچھ ناقدین نے اُنھیں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ لیکن، گذشتہ چند ہفتوں کے دوران، اُنھوں نے این بی سی کے اہل کاروں سے مذاکرات کیے، تاکہ وہ نیٹ ورک پر کم اہم کام کر سکیں۔

اُن کی جگہ، ایک اور 26 سالہ اخبار نویس، لیسٹر ہولٹ کو تعینات کیا گیا ہے، جو ولیمز کی تعطلی کے دوران کام کریں گے، اور کُل وقتی اینکر کے طور پر خدمات بجا لائیں گے۔

XS
SM
MD
LG