رسائی کے لنکس

ایما واٹسن کا صنفی مساوات کے لیے نئی مہم کا آغاز


ایما واٹسن

ایما واٹسن

24سالہ اداکارہ کو تحریک نسواں کا علمبردار قرار دیا جارہا ہے لیکن وہ کہتی ہیں کہ تحریک نسواں کا مطلب مرد اور عورتوں کے لیے برابری کے حقوق ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں سیاست دانوں اور بڑی کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئےاقوام متحدہ کی خواتین تنظیم کی خیر سگالی سفیر اداکارہ ایما واٹسن نے کہا کہ وہ مردوں اور عورتوں کی برابری کی عالمی مہم کی حمایت میں موصول ہونے والے زبردست ردعمل کو دیکھ کر دنگ رہ گئی ہیں۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور اقوام متحدہ کی خواتین کے ساتھ بیٹھی ہوئی ایماواٹسن نے اس موقع پر صنفی مساوات اورخواتین کو با اختیار بنانے کے اگلے قدم کے طور پرایک نئی مہم ' ہی فارشی ایمپیکٹ ٹین بائی ٹین بائی ٹین' کے پائلٹ منصوبے کا تعارف پیش کیا۔

24سالہ اداکار کو تحریک نسواں کا علمبردار قرار دیا جارہا ہے لیکن ایماواٹسن کہتی ہیں کہ تحریک نسواں کا مطلب مرد اور عورتوں کے لیے برابری کے حقوق ہیں۔

انھیں جولائی میں اقوام متحدہ کی خواتین تنظیم کی خیر سگالی سفیرمقرر کیا گیا جس کے بعد انھوں نے ایک عالمی یک جہتی مہم کے ذریعے دنیا بھرمیں تفریق کا نشانہ بننے والی عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑنے میں مردوں کو اتحادی بننے کی دعوت دی۔

برطانوی اداکارہ ایما واٹسن نے عالمی اقتصادی فورم پرایک جذباتی تقریر میں کہا کہ صنفی مساوات کی مہم 'ہی فار شی' کا آغاز ستمبر میں ہوا اور ان چار ماہ کے دوران جنسی برابری کے مطالبے کی حمایت میں انھیں مردوں کی جانب سے زبردست ردعمل حاصل ہوا ہے۔

ہیری پوٹر فلم کے مرکزی کردار 'ہرمیاونا ' سے شہرت حاصل کرنے والی مس واٹسن نے بتایا کہ ان کی نیویارک کی تقریر سننے کے بعد ایک لڑکی کو گھریلو تشدد اور بدسلوکی کے خلاف بغاوت کرنے کی ہمت ملی، اسی طرح ایک شخص نےاپنی بیٹی کے مستقبل کے حوالے سے لکھے ایک خط میں خواہش ظاہر کی کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی ایک ایسی دنیا میں بڑی ہو جہاں وہ محفوظ ہو اور اسے امتیازی سلوک کا سامنا نا کرنا پڑے۔

انھوں نے مردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "صنفی مساوات آپ کا بھی مسئلہ ہے کیونکہ آج کی تاریخ میں معاشرے کی طرف سے والدین کے طور پر والد کے کردار کو ماں سے کمتر سمجھا جارہا ہے جبکہ والد کی موجودگی کی ضرورت ایک بچے کو ماں سے زیادہ ہوتی ہے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ "میں نے ذہنی بیماری میں مبتلا مردوں کو دیکھا ہےجو مدد مانگنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں کیونکہ اس سے ان کی مردانگی کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ برطانیہ میں بالغ مردوں میں خود کشی کا رجحان زیادہ ہے۔"

تقریر کے آخر میں انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ "آج عورتوں کے لیے ہمارے معاشرے، حکومت، ملازمت اور گھروں میں عورتوں کی برابری کی شرکت کی ضرورت کے حوالے سے زیادہ آگاہی موجود ہے جو شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔"

انھوں نے عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صنفی عدم مساوات کے مسائل کے بارے میں کچھ کرنے کے لیے یہ بامقصد کارروائی کا وقت ہے۔

حالیہ مہم کا مقصد بعض معاشروں کے اندر تبدیلی لانے کے لیے حکومتی اداروں اور یونیورسٹیوں کو شامل کرنا اور ہر شعبے میں صنفی عدم مساوات کے نقطہ نظر کی نشاندہی کرنا ہے تاہم مس واٹسن کو "ہی فار شی مہم" کے لیے انٹرٹینمنٹ کی صنعت کی جانب سے بھی بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG