رسائی کے لنکس

دنیا کو باہمی ہمدردی سے بچایا جا سکتا ہے: نئی کتاب


دنیا کو باہمی ہمدردی سے بچایا جا سکتا ہے: نئی کتاب

دنیا کو باہمی ہمدردی سے بچایا جا سکتا ہے: نئی کتاب

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک نئی کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مواصلات اورقابلِ تجدید توانائی مستقبل میں زمین کے بقا میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

کتاب کے مصنف جیریمی ریفکین (Jeremy Rifkin) کہتے ہیں کہ ہم انسانی تاریخ کے بدلتے ہوئے موڑ پر ہیں۔ اور عالمی اقتصادی کساد بازاری، توانائی کی سیکیورٹی اور آب و ہوا میں تبدیلی کے ان تین اہم چیلنجوں سے نمٹنے کا ہمارا انداز انسانیت کا مستقبل کا تعین کرے گا۔اپنی نئی کتاب دی ایمپیتھک سویلائزیشن(The Empathic Civilization)میں انہوں نے ایک روشن اجتماعی مستقبل کا تصور پیش کیا ہے۔

اس کتاب میں وضاحت کی گئی ہے کہ کس طرح پوری تاریخ میں توانائی اور مواصلات دونوں شعبوں میں آنے والے انقلاب انسانی شعور پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

اس کتاب میں وضاحت کی گئی ہے کہ کس طرح پوری تاریخ میں توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں آنے والے انقلاب انسانی شعور پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

ریفکین کہتے ہیں کہ دس سے 20 ہزار سال قبل کے ابتدائی انسان کا معاشرہ شکار کرنے والے کا محدود معاشرہ تھا، اس کی زبان صرف بول چال تک محدود تھی اور اس کا ابلاغی نظام کا پھیلاؤ صر ف اس حد تک تھا جہاں تک وہ اپنی آوازکے ذریعے پہنچ سکتا تھا۔ خوراک اور شکار تلاش کرنے والا اس دور کا انسان صر ف خون کے رشتوں اور قبائلی تعلقات ہی کو پہچانتا اور سمجھتا تھا۔

اپنی نئی کتاب میں ریفکین لکھتے ہیں کہ کس طرح انسانیت آہستہ آہستہ اپنے گردوپیش اور پوری دنیا سےآگاہ ہوئی۔ وہ اس ترقی کو آبی توانائی سے جوہری توانائی کے شعبے تک میں ہونے والی پیش رفت اور کمیونی کیشن میں ہونے والے انقلابات سے منسلک کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پانی اور زراعت پر مبنی بڑی بڑی تہذیبوں نے مجسمہ سازی اور تحریروں کو ابلاغ کا ذریعہ بنایا۔ لوگوں نے خونی رشتوں سے باہر نکل کر تعلقات بنانے شروع کیے۔ یہودیوں نے یہودیوں کےساتھ اور عیسائیوں نےعیسائیوں کے ساتھ توسیعی خاندان کے طور پر تعلق استوار کرنے کا آغاز کیا۔

انیسویں صدی میں جس طرح پرنٹنگ پریس کے آنے سے بڑے پیمانے پر اخبارات کی تقسیم سے لوگوں میں قومی شناخت کا احساس اجاگر ہواتھا، اسی طرح 20 ویں صدی میں ٹیلی وژن اور ریڈیو کی آمد سے کمیونٹی کی سرحدیں اور بھی زیادہ وسیع ہوگئیں۔ ریفکن کہتے ہیں کہ کوئلے اور بھاپ کی توانائی کے صنعتی انقلاب سے لے کر 20ویں صدی کے پیٹرول پر مبنی دور تک، ہم قابل تجدید توانائی کے ایک دور سے گزرتے ہوئے توانائی سےچلنے والے ڈیجیٹل دور کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ دس سال میں ہم پرسنل کمپیوٹروں، سیٹلائٹ اور وائرلیس رابطوں کے ساتھ مواصلات کے ایک طاقتور انقلاب سے گزرے ہیں۔ مواصلات کا یہ انقلاب بجلی کی دریافت کے نتیجے میں آنے والے پہلے مواصلاتی انقلاب سے بہت زیادہ مختلف ہے، جس میں فلم، ریڈیو اور ٹیلی وژن آئے تھے۔ ان اداروں کو بڑی بڑی کاپوریشنز یا سرکاری ادارے چلاتے تھے۔ لیکن اب دو ارب لوگ خود اپنی ویڈیو، آڈیو اور ٹیکسٹ ایک دوسرے کو بھیج سکتے ہیں، اور اپنے لیپ ٹاپ اور موبائل آلات کی مدد سے، اس سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ ایک دوسرے تک پہنچا سکتے ہیں، جتنی طاقت کے ساتھ کسی زمانے میں ٹیلی وژن کے انتہائی طاقتور نیٹ ورک پہنچایاکرتے تھے۔

ریفکین کہتے ہیں کہ کمیونیکیشن کےانقلاب اور قابل تجدید توانائی کے استعمال سے ہم نے اپنے شعور کو اپنے احساسات کو پھیلایا ہے ۔ہم نے ایک انسانی خاندان کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔اور انسانی خاندان کے لیے اگلا مرحلہ تیسرے صنعتی انقلاب کا ہے،جو توانائی کے عالمی نیٹ ورک پر مبنی ہو گا۔

ہم انہی ٹکنالوجیز کی مدد لیں گے جن پر انٹر نیٹ قائم ہوا، پھر ہم یورپ اور ایشیا افریقہ اور جنوبی اور شمالی امریکہ اوردنیا بھر کی بجلی کی ترسیل کی لائنوں کو استعمال کرتے ہوئے انہیں انٹر میڈیا لائنوں میں تبدیل کریں گے جو بالکل انٹر نیٹ کی طرح کا ہو گا۔ تو پھر جب لاکھوں کروڑوں عمارتیں اس قابل تجدید توانائی کو، جن سے وہ منسلک ہوں گی، اسے اسی طرح ذخیرہ کریں گی جیسا کہ ہم ڈیجیٹل میڈیا کو ذخیرہ کرتے ہیں اور پھر اس میں ہم تمام کو شریک کریں گے، تو اس سے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

اس نئے دور کو انہوں نے اپنی کتاب میں’ biosphere consciousness‘ کا نام دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اس تبدیلی کے نتیجے میں انسان جغرافیائی سیاست سے حیاتیاتی سیاست کے دور میں داخل ہوجائے گا۔

XS
SM
MD
LG