رسائی کے لنکس

اقوام ِ متحدہ کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً تین کروڑ 50 لاکھ افراد ایڈز میں مبتلا ہیں؛ اور 2012ء میں تقریباً 15 لاکھ افراد ایڈز کے باعث ہلاک ہوئے

اس سال، عالمی ایڈز کانفرنس کا موضوع ہے ’ایڈز کے مرض سے پاک دنیا‘۔۔۔ اقوام ِمتحدہ کی پیش گوئی ہے کہ اگر ایڈز سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کی گئیں اور اس حوالے سے طریقہ ِعلاج کو نافذ العمل کیا گیا، تو اگلے 15 سال بعد ایڈز ایک عالمی خطرہ نہیں رہے گا۔

مگر اقوام ِمتحدہ نے یہ بھی متنبہہ کیا ہے کہ اگر اس سلسلے میں اہداف حاصل نہ ہو سکے تو ایڈز مزید بڑے خطرے کے طور پر ابھر کر سامنے آ سکتا ہے۔

گذشتہ 30 برسوں سے ڈاکٹر انتھونی فاؤچی امریکہ کے ادارہ برائے تدارک ِامراض کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ اور، کہتے ہیں کہ 1984ء میں ایڈز کے خاتمے کے لیے کوئی دوا یا طریقہ ِعلاج موجود نہیں تھا۔ مگر، اب دنیا بھر میں ایڈز سے متعلق 30 مختلف طریقہ ِعلاج اور ادویات موجود ہیں۔

ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کہتے ہیں کہ، ’اگر ایڈز کے مرض کی تشخیص بروقت اور شروع میں ہی کرلی جائے اور ایسے مریض کو صحیح طریقہ ِعلاج فراہم کیا جائے تو مریض اس مرض سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے‘۔

مگر ایک حالیہ تحقیق کے نتائج کے مطابق، ایڈز میں مبتلا محض 30 فی صد امریکیوں کی ہی ایڈز کے درست طریقہ ِعلاج تک رسائی ہے۔

ماہرین کے نزدیک ایڈز کے مریضوں کی علاج تک رسائی نہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ بہت سے مریضوں کو ایڈز سے متعلق ٹیسٹ کے نتائج سے خوف ہوتا ہے، کچھ ایڈز کی دوا نہیں لیتے اور کچھ کے لیے ایڈز کے مرض کی تشخیص کے بعد اس مرض کے ساتھ جینا اور معاشرے کا مقابلہ کرنا مشکل لگتا ہے۔

ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کہتے ہیں کہ ایڈز کے مرض کی مستقل سبیل کے لیے ضروری ہے کہ اس حوالے سے کوئی مکمل ویکسین تیار کی جائے، تاکہ اس مرض پر قابو پانا آسان ہو اور دنیا بھر میں ایڈز سے متعلقہ اموات میں کمی لائی جا سکے۔

اقوام ِ متحدہ کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً تین کروڑ 50 لاکھ افراد ایڈز میں مبتلا ہیں اور 2012ء میں تقریباً 15 لاکھ افراد ایڈز کے باعث ہلاک ہوئے تھے۔

گو کہ ماضی کے مقابلے میں ایڈز کے مرض کے خلاف کامیابیاں زیادہ ملی ہیں، مگر ابھی بھی دنیا بھر میں ایسے لوگ ایک بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جنہیں ایڈز کا مرض لاحق ہے۔

XS
SM
MD
LG