رسائی کے لنکس

نایاب جانوروں کی افزائش نسل


نایاب جانوروں کی افزائش نسل

نایاب جانوروں کی افزائش نسل

حال ہی میں وائلڈ لائف کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شیروں کی تعداد جو ایک صدی قبل ایک لاکھ سے زیادہ تھی، اب گھٹ کر محض 1200 رہ گئی ہے۔اسی طرح کئی اور جانوروں کی نسلیں ختم ہونے کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موجودنیشنل پارک اور چڑیا گھروں کو ان جانوروں کو بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل چڑیا گھر کا شمار دنیا کے چند بڑے چڑیا گھروں میں ہوتا ہے۔ یہاں اس وقت دو ہزار کے لگ بھگ جانور موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔یہاں نایاب جانوروں کے تحفظ اور افزائش کے لیے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں ۔

چڑیا گھر میں حال ہی نایاب نسل کے ریچھ کے بچوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مئی میں میڈیا سے ان کے رسمی تعارف کے بعد لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی تھی۔ چڑیا گھر کے ڈائریکٹر ڈینس کیلی کے مطابق ان کی نسل کو بھی دیگر بہت سے جانوروں کی نسلوں کی طرح معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔

نیشنل زو کی سیر کو آنے والے افراد کے لیے یہاں مختلف جانوروں کی چار سو اقسام موجود ہیں۔ جن میں سے 20 فیصد کی نسلیں مٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ جیسا کہ لال پانڈہ ، چین، ہمالیہ اور میانمار میں جنگلی حیات کے ماحول کو خطرے کے باعث ان کی تعداد ڈھائی ہزار کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔لیکن نیشنل زو میں ایک سو بیس پانڈوں کی پیدائش ہو چکی ہے، جن میں سے زیادہ تر یہاں سے چند کلومیٹر دور ورجینیا میں شینن ڈووا کے نیشنل پارک میں قائم جانوروں کے تحفظ اور افزائش کے مرکز میں پیدا ہوئے تھے۔

چڑیا گھر کے ڈائریکٹر اسٹیون مونفرٹ کہتے ہیں کہ امریکہ بھر میں تقریبا 225 چڑیا گھر ہیں۔ مگر اس طرح کی سہولتیں صرف پانچ چڑیا گھروں میں فراہم کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ہم سائنسی طریقوں سےنایاب جانوروں کی نسل بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان نایاب جانوروں میں مغربی یورپ اور ایشیاء میں پائے جانے والے پرزوال سکیز نسل کے گھوڑے بھی شامل ہیں ۔مونفرٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ایسے 27 گھوڑے ہیں۔ اب دنیا میں ان کی تعداد 1500 کے لگ بھگ ہے۔

مونفرٹ کہتے ہیں کہ نایاب جانوروں کی نسلوں کو مٹنے سے بچانے میں سائنسی ترقی بڑی مدد دے رہی ہے۔اور ہم ایسے جانور بھی پیدا کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں جن کی دنیا سے نسل ختم ہوئے زمانے ہوچکے ہیں۔ مثال کے طورپر ہم نے کالے پائیوں نیولے کو اس کے منجمد ہوئے تولیدی مادے کی مدد سے پیدا کیا۔ نئی سائنسی ٹیکنالوجی کی مدد سے جانوروں کے فضلے سے ان کے ہارمونز کا تعین کیا جانا بھی ممکن ہوچکا ہے۔
جانوروں کے تحفظ اور افزائش کے لیے کام کرنے والے ادارے کے سربراہ راب فلیشر کہتے ہیں کہ ہم ان کی آبادی کے لیے منیجمنٹ ڈیزائن بھی کرتے ہیں۔ ہم ان کی نسلوں کو آپس میں ملاتے بھی ہیں مگر ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس عمل کے دوران ان کی جنیاتی ہیت میں تبدیلی نہ لائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر سائنسدان ان جانوروں کے ڈی این ایز پر کام کررہے ہیں ، جنہیں دنیا سے معدوم ہوئے زمانے ہوچکے ہیں ، تاہم فی الحال ہم ان میں سے اکثر جانوروں کو دوبارہ پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوسکے ہیں۔اور دوسرا اہم مسئلہ ان جانوروں کو محفوظ بنانے کا ہے جن کی نسلیں تیزی سے ختم ہورہی ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ اس چڑیا گھر میں پیدا ہونے والے ہر جانور کا جشن منایا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG