رسائی کے لنکس

ماہرین ِصحت کہتے ہیں کہ ایڈز کے خلاف خاطر خواہ کامیابیاں اور 2030ء تک دنیا سے اس مرض کے خاتمے کی باتیں خوش کن ضرور ہیں، مگر اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت باقی ہے

یکم دسمبر کو دنیا بھر میں ایڈز کا عالمی دن منایا گیا۔ گذشتہ 35 برس میں دنیا بھر میں تقریباً آٹھ کروڑ افراد اس مرض سے متاثر ہوئے اور چار کروڑ افراد اس مرض کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھے۔

دوسری طرف، دنیا بھر میں حالیہ چند برسوں میں ایڈز کے مرض کے خلاف خاطر خواہ کامیابی دیکھنے مین آئی ہے، اور اس مرض کا تدارک ممکن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اقوام ِ متحدہ کے یو این ایڈز پروگرام کے مطابق 2030ء تک دنیا سے ایڈز کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایڈز سے متعلق ایک عالمی گروپ کا کہنا ہے کہ 2030ء تک یہ ہدف پورا کرنے کے لیے نہ صرف ٹھوس پلان کی ضرورت ہے، بلکہ درست سمت میں عملی اقدامات اٹھانا بھی ناگزیر ہے۔

یو این ایڈز کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر مائیکل سیڈیبے نے ایک وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ، ’ایبولا کی وباء دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ہمیں ایڈز کے خلاف جنگ میں شروع میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایڈز کے مریض سامنے نہیں آتے تھے اور چھپ جاتے تھے۔ وہ ڈرتے تھے۔ وہ معاشرے اور معاشرے کی جانب سے امتیازی سلوک سے خوفزدہ تھے۔ اس وقت ہمارے پاس کوئی امید نہیں تھی‘۔

یو این ایڈز کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر مائیکل سیڈیبے کا مزید کہنا تھا کہ،’ایڈز کے خلاف عالمی یک جہتی اور سول سوسائٹی کی سرگرمیوں کی وجہ سے اس مرض سے لڑنے کا موقع ملا‘۔

ماہرین ِصحت کہتے ہیں کہ ایڈز کے خلاف خاطر خواہ کامیابیاں اور 2030ء تک دنیا سے اس مرض کے خاتمے کی باتیں خوش کن ضرور ہیں۔ مگر، اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت باقی ہے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اس ضمن میں ٹھوس اور جامع منصوبہ بندی کی جائے اور پھر اس منصوبہ بندی پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو کر ہی اس ہدف کو پورا کرنا ممکن ہو سکے گا۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مرض سے بچاؤ کے لیے ایک بڑا مسئلہ فنڈنگ کی عدم دستیابی کا ہے، جب تک درکار رقوم دستیاب نہیں ہوں گی اور جامع منصوبہ بندی نہیں ہوگی، ایڈز کا مکمل خاتمہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔

XS
SM
MD
LG