رسائی کے لنکس

توانائی بحران : نو منتخب وزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی اجلاس


نو منتخب وزیراعظم خصوصی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

نو منتخب وزیراعظم خصوصی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

نو منتخب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ہفتہ کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی ملک کو درپیش توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی اجلاس طلب کیا جس میں بجلی کی طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں شرکت سے قبل وہ اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنماء چوہدری شجاعت حسین کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر بھی گئے اور ان سے بھی بجلی بحران کے حل سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے مختصر گفتگو میں کہا کہ بجلی کے بحران کا حل ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی لیے اُنھوں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے اسی بحران کے حل کے لیے اجلاس بلایا۔

راجہ پرویز اشرف کی کابینہ کے سینیئر وزیر چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتوں کا ماننا ہے کہ بجلی کے بحران کے حل کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے اور ان کے بقول پیپلز پارٹی کی قیادت بھی اس سے اتفاق کرتی ہے۔

’’انرجی بحران کا حل ہی سب سے پہلی ترجیح ہے۔ ساری توجہ اسی بحران کے حل پر ہونی چاہیئے اور اس کا عملی حل نکالا جائے۔‘‘

پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کے باعث جہاں عام صارفین سراپا احتجاج ہیں وہیں ہفتہ کو تاجر تنظیموں کی اپیل پر بعض شہروں میں جزوی ہڑتال رہی۔

رواں ہفتے ملک کے بعض علاقوں میں 16 سے 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شامل مشتعل افراد نے حکمران پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے اراکین پارلیمنٹ کے گھروں پر بھی حملے کیے۔ جب کہ صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کی طرف سے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیموں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو گا جس سے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی ممکن ہو سکے گی۔

XS
SM
MD
LG