رسائی کے لنکس

جرمن محققین کہتے ہیں کہ کیفین سے بھرے انرجی مشروبات پینے والوں کا دل معمول سے ہٹ کردھڑکنا شروع کر دیتا ہے ۔

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انرجی ڈرنک پینے سے شاید ہمارے دل کو کچھ زیادہ ہی توانائی ملتی ہے جس کی وجہ سےدل کے عضلات پر اضافی دباؤ بڑھتا ہےاور دل معمول سے زیادہ تیزی سے سکڑتا ہے ۔

پیر کے روزیونیورسٹی آف بون کی ایک تحقیق، ریڈیولوجی سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی۔ جرمن محققین کے مطابق کیفین سے بھرے توانائی کے مشروبات پینے والوں کا دل معمول سے ہٹ کردھڑکنا شروع کر دیتا ہے ۔

محققین نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے مشروبات میں شامل کیفین اور ٹورین کی زیادہ مقدار پینے کے ایک گھنٹے بعد ایک تندرست انسان کا دل حالت انقباض (جسم کو خون پمپ کرنے کی حالت میں دل کا سکڑنا ) میں سخت دباؤ محسوس کرتا ہے اور مشکل سے سکڑتا ہے۔

امریکن کارڈیالوجی سے وابستہ کم ولیم نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہےکہ جسم کوتوانائی فراہم کرنے والے مشروبات خاص طور پر دل کے امراض میں مبتلا لوگوں کے لیے اچھے نہیں ہوں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ توانائی کے مشروبات میں کیفین بھاری مقدار میں استعمال ہوتا ہے اور روزمرہ استعمال ہونے والے کیفین ڈرنک مثلاً کافی یا کولا کے مقابلے میں انرجی مشروبات میں کیفین کی سطح تین گنا زیادہ موجود ہوتی ہے۔

تحقیق کے دوران 18 تندرست افراد کو ایک انرجی ڈرنک پلائی گئی جس کےہر (100ملی لیٹر) میں (32 ملی گرام) کیفین اور (400 ملی گرام) ٹورین کیمیکل (امینو ایسڈ) شامل تھا ۔ مشروب پینے کےایک گھنٹے بعد شرکاء کے دل کے افعال کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے ایم آر آئی کا ٹیسٹ لیا اوردل کا عکس محفوظ کیا۔

تحقیق کےمصنف جونس ڈوئنر نے کہا کہ نتیجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انرجی ڈرنک پینے والوں نے دل سکڑنے کے عمل کو چھ گنا زیادہ محسوس کیا جبکہ اس دوران انرجی مشروب پینے والوں کے دل کا بایاں خانہ ( وینٹریکل ) جو جسم کے اعضاء کی جانب خون دھکیلتا ہے، سخت مشکل سے خون پمپ کر رہا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ،درحقیقت ہمیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ انرجی مشروبات پینے سے ہمارے دل کے افعال پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن کیفین کی زیادہ مقدار پینے سے جسم پر پڑنے والے بہت سے ضمنی اثرات کے بارے میں ہم اچھی طرح واقف ہیں جن میں دل کی شرح کا بڑھنا، دھڑکن کا تیز ہو جانا، بلند فشار خون اور دوروں کے علاوہ اچانک موت بھی شامل ہے۔

ہیلتھ ڈے شمارے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں2007 سے2011 کے دوران انرجی ڈرنک پینے کی وجہ سے اسپتالوں میں ہنگامی حالت میں پہنچائے جانے والے مریضوں کی تعداد دوگنی ہو گئی جن میں زیادہ تر نوجوانوں کی عمریں 18 برس سے 25 برس اور 26 سے 39 برس کے درمیان تھیں ۔

تحقیق کے سربراہ جونس نے کہا کہ اس چھوٹی سی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ توانائی کے مشروب کی تھوڑی سی مقدار ہمارے دل کے افعال میں وقتی طور تبدیلی پیدا کر سکتی ہے لہذا انرجی ڈرنک پینے سے بچوں اور بڑوں کی صحت پر پڑنے والے طویل المعیاد اثرات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنےکی ضرورت ہے لہذا مزید تحقیق کی گنجائش موجود ہے۔

تاہم محقیقین نے بے قاعدہ دل کی دھڑکنیں رکھنے والے بچوں اور بڑوں کو مشورہ دیا ہے کہ انھیں کیفین سے بھرے توانائی کے مشروبات پینے سےاجتناب برتنا چاہیے۔
XS
SM
MD
LG