رسائی کے لنکس

فوجی آپریشن سب سے مشکل مرحلے میں ہے: جنرل راحیل شریف

  • عشرت سلیم

جنرل راحیل شریف

جنرل راحیل شریف

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ جنگ سے تباہ حال علاقوں کی تعمیر نو، بے گھر افراد کی واپسی اور وہاں لوگوں کی امنگوں کے مطابق کام کرنے والی انتظامیہ کا قیام فوجی آپریشن کا سب سے مشکل مرحلہ ہے۔

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے بعد فوجی آپریشن اب سب سے مشکل مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ جنگ سے تباہ حال علاقوں کی تعمیر نو، بے گھر افراد کی واپسی اور وہاں لوگوں کی امنگوں کے مطابق کام کرنے والی انتظامیہ کا قیام فوجی آپریشن کا سب سے مشکل مرحلہ ہے۔

یہ بات انہوں نے منگل کو پشاور میں خیبر پختونخوا اور فاٹا کی سپیشل ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کہی جس میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشنز اور قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی اور بحالی پرغور کیا گیا۔

اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو بھی سراہا۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا کے گورنر، وزیر اعلیٰ، پشاور کے کور کمانڈر اور فاٹا و خیبر پختونخوا سے دیگر اعلیٰ عہدیدار شریک تھے۔

قبائلی علاقوں میں لگ بھگ ایک دہائی سے جاری فوجی کارروائیوں میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں، جنہیں مرحلہ وار اپنے علاقوں میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

فاٹا سے رکن قومی اسمبلی سید غازی گلاب جمال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بے گھر ہونے والے افراد میں سے بیشتر خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بہت برے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بے گھر افراد کی بحالی میں سب سے بڑا مسئلہ ان کے گھروں کی تعمیر نو ہے۔

’’بے حد ضروری ہے کہ حکومت جو ہے ان لوگوں کے گھر بار جو تباہ ہوئے ہیں اور حکومتی انفرسٹرکچر، سکولوں کی شکل میں، اسپتالوں کی شکل میں ہے، واٹر سپلائی سکیم کی شکل میں، ان کو دوبارہ بنانا بہت ضروری ہے۔ اور یہ اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے فوجی بھائیوں نے جو ضرب عضب، خیبر ون اور ٹو (آپریشن کیے ہیں وہ ضائع) ہو جائے گا جب تک کہ ان علاقوں کا بنیادی (ترقیاتی) کام نئے سرے سے نہ (کیا) جائے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے علاقے اورکزئی ایجنسی میں 139 سکول تباہ ہوئے ہیں مگر پچھلے دو سال کے دوران ان میں سے صرف 15-20 پر کام ہوا ہے۔ اسی طرح دیگر علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا جسے دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم تجزیہ کار ریٹائرڈ برگیڈیئر شوکت قادر کا کہنا تھا کہ فوج بنیادی ڈھانچہ تعمیر کر سکتی ہے مگر انتظامی ڈھانچہ تعمیر کرنا سیاستدانوں کا کام ہے۔

’’ہم بلڈنگ بھی بنا دیں گے، سکول بھی بنا دیں گے، تعلیمی ادارے بھی بنا دیں گے، اسپتال بھی بنا دیں گے، سڑکیں بھی بنا دیں گے، مگر آگے چلانا تو کسی نے ہے نا، وہ فوج تو نہیں کرے گی۔ تو یہ ہمارے بھائی جو ہیں سیاستدان یہ ان کا ذمہ ہے۔‘‘

گزشتہ ایک دہائی سے جاری جنگ سے ناصرف مختلف قبائلی ایجنسیوں میں جہاں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا وہاں برطانوی دور سے جاری پولیٹکل ایجنٹ اور مقامی عمائدین پر مشتمل انتظامی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا۔

حکومت نے گزشتہ نومبر میں فاٹا میں اصلاحات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی جو متعلقہ اداروں اور افراد سے مشاورت کے بعد فاٹا کو مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرے گی۔

آئین پاکستان کے مطابق فاٹا وفاق کا حصہ ہے اور اس کے انتظامی اختیارات صدر پاکستان کے پاس ہیں جو گورنر خیبر پختونخوا اور مقامی سرکاری عہدیداروں کے ذریعے وہاں کا انتظام چلاتے ہیں۔

سید جی جی جمال نے بتایا کہ اس سلسلے میں چار ایجنسیوں میں مشاورتی جرگے منقعد کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی تین ایجنسیوں میں بھی جرگے منعقد کرنے کے بعد فاٹا کے اراکین پارلیمان سے مشورہ کیا جائے گا جس کے بعد کمیٹی اپنی تجاویز وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔

XS
SM
MD
LG