رسائی کے لنکس

ببوبرال اور مستانہ، گہرے دوست، عوامی فنکار، ساتھ جئے، ساتھ ہی رخصت ہوئے


ببوبرال اور مستانہ، گہرے دوست، عوامی فنکار، ساتھ جئے، ساتھ ہی رخصت ہوئے

ببوبرال اور مستانہ، گہرے دوست، عوامی فنکار، ساتھ جئے، ساتھ ہی رخصت ہوئے

جمعہ 15 اپریل، پاکستان کے مزاحیہ اداکار ببو برال کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا۔ اس سے چار روز پہلے یعنی 11 اپریل بھی ایک اور مزاحیہ فنکار مستانہ کے لیے آخری روزحیات ثابت ہوا۔ اسٹیج کی دنیا کے یہ دونوں فنکار زندگی بھر ایک دوسرے کے گہرے دوست رہے، ساتھ ساتھ کام کیا، ساتھ ہی ساتھ فن کی دنیا میں شہرت حاصل کی۔ دونوں کی جوڑی نے کئی لازوال ڈرامے دیئے۔ ایک مشترکہ فلم بھی کی۔اس سے بڑا اتفاق یہ ہوا کہ دونوں ایک ہی مہینے میں ایک ہی مرض میں مبتلا ہوکر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

اس کے علاوہ بھی دونوں میں بہت سی قدریں مشترک تھیں۔ دونوں کا تعلق ایک ہی صوبے پنجاب اور ایک ہی شہر گوجرنوالہ سے تھا۔ دونوں فلمی یا قلمی ناموں سے مشہور ہوئے۔ دونوں ٹی وی اور فلم کے مقابلے میں اسٹیج کو ترجیح دیتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ کہ دونوں حقیقی اور عوامی فنکار تھے، زندگی بھر عوام کے درمیان ہی رہے اوربڑے فنکار ہونے کے باوجود عام لوگوں کی طرح ہی راہی ملک عدم ہوئے۔

ایوب اختر المعروف ببوبرال مزاحیہ فنکار ہونے کے ساتھ ساتھ موسیقی و گائیکی سے بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ اس قدر گہری دلچسپی کہ وہ پاکستانی سنگرز مہدی حسن، نورجہاں، نصرت فتح علی، طفیل نیازی، عالم لوہار، عنایت حسین بھٹی سمیت درجن بھر گلوکاروں کو تو صدفی صد انداز میں آسانی سے گاہی لیا کرتے تھے، بھارتی گلوکار چنچل اور ہالی ووڈ سنگرز مائیکل جیکسن، وٹنی ہیوسٹن اور ماریہ کیرے کے انداز میں گانے کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ پھر طبلہ، کانگو، بونگا، ڈھولک اور ہارمونیم بجانے کی بھی انہوں نے باقاعدہ تربیت لی تھی۔

ببوبرال نے 80ء کی دہائی سے اسٹیج ڈراموں میں کام کا آغاز کیالیکن اس دور میں نہ تو میڈیا اس قدر 'جوبن' پر تھا جیسا آج ہے اور نہ ہی اس میں کام کرنے کا معاوضہ اتنا ملتا تھا کہ فنکار صرف فنکار ہی رہ سکتا۔ چنانچہ ببوبرال بطور پائپ فٹر بھی کام کرنے پر مجبور تھے۔ ذریعہ معاش کو بہتر بنانے کے لئے اسی دوران انہیں گوجرانوالہ سے راولپنڈی بھی منتقل ہونا پڑا۔ یہاں آکر انہوں نے ایک میوزیکل گروپ بھی تشکیل دیا مگر جب اس سے بھی بات نہ بنی تو1985ء میں انہیں لاہور کی راہ دیکھنا پڑی ۔ یوں بھی پاکستان فلم انڈسٹری لاہور میں قائم تھی۔

ببوبرال کو رنگیلا سے عقیدت تھی اور لاہور آکر انہیں رنگیلا کی ہی شاگردی میں کام کرنے کا موقع ملا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اسٹیج پر اداکاری کے لئے انہیں امریکا سے بلاوا آگیا۔ وہ ایک بار امریکا کیا گئے کہ پھر کئی سال تک وہیں کے ہورہے۔ ان کی لاہور سے واپسی کا سن 1992ء تھا۔ سچ پوچھئے تو امریکا سے وطن واپسی کے بعد ہی ان کی شہرت کو چار چاند لگے۔ اپنی اداکاری کے سبب انہیں وہ شہرت ملی کہ بچہ بچہ ان کے نام سے واقف ہوگیا۔ اخبارات ان کا مقابلہ اس دور کے دیگر فنکاروں سے کرنے لگے۔ اسی اثنا ء میں انہیں حقیقی عوامی فنکار بننے کا بھی موقع ملا۔

ببوبرال کو بیک وقت کئی بیماریوں نے آگھیرا تھا۔ ذیابطیس کا مرض انہیں سب سے پہلے سن 1999ء میں ہوا لیکن اس پر انہوں نے خاطر خواہ توجہ نہ دی نہ ہی صحیح سے علاج کرایا۔ اس مرض میں ان کے گردے بھی جاتے رہے۔ پھر ہیپائٹس نے بھی انہیں آگھیرا ۔ بیماریوں کے سبب وہ بستر سے لگ گئے اور اسٹیج پر کام کرنے کے بھی قابل نہ رہے۔ کام چھوٹ جانے کے سبب تنگ دستی نے پیچھا لے لیا۔

اپریل میں شوگر کا مرض اس قدر بڑھا کہ ڈاکٹروں کو پہلے دائیں پاوٴں کی پانچوں انگلیاں کاٹنا پڑیں پھر ہاتھ اور پاوٴں کاٹنے کا فیصلہ بھی کیاگیا مگر جگر خراب ہونے کے باعث اس کی نوبت ہی نہ آئی ۔ انہیں گردے کی بھی تلاش تھی۔ اتنی بیماریوں کا علاج کراتے کراتے ساری جمع پونچی خرچ ہوگئی۔ مجبوراً دوستوں اور حکومت سے امداد مانگنا پڑی۔ پنجاب حکومت کے ساتھ ساتھ کچھ قریبی دوستوں اور کچھ سیاسی رہنماوٴں نے بھی مالی مدد کی لیکن موت کے فرشتے کے آگے سب بیکار ثابت ہوا۔

مستانہ ببوبرال کے جگری دوست تھے۔ انہوں نے غریب گھرانے میں آنکھ کھولی ۔وہ غالباً غربت کے سبب ہی ابتدائی تعلیم سے آگے نہ بڑھ سکے۔ تاہم انہیں اداکاری کا بچپن سے شوق تھا۔ اسکول کے دنوں میں ہی انہیں ایک اسٹیج ڈرامے میں کام کرنے کا موقع ملا جس کی کامیابی اور لوگوں کی حوصلہ افزائی پر انہوں نے مختلف گھریلو تقریبات اور گلی محلوں میں پرفارمنس دینا شروع کردی۔ تاہم اسٹیج سے باقاعدہ طور پر 1973ء سے وابستہ ہوئے۔

مستانہ کی آمدنی بھی اتنی نہیں تھی کہ بے فکری سے گزر اوقات کرسکتے۔ آمدنی کی غرض سے انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ مزدوری بھی جاری رکھی۔ اداکاری کے شوق کو جلا بخشنے کے لئے ہی انہوں نے لاہور کا رخ کیا۔ لاہور میں بھی انہوں نے اسٹیج ڈراموں سے شہرت حاصل کی اور اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ انہوں نے ایک دو نہیں متعدد یادگار اور سدابہار کردار ادا کئے۔ بیشتر ڈارمے اداکار سہیل احمد اور ببوبرال کے ساتھ کئے۔ خصوصی طور پر ببوبرال کے ساتھ ان کی جوڑی نے خوب شہرت حاصل کی۔ انہوں نے پی ٹی وی کے ڈرامے "شب دیگ" میں 'انکل کیوں' کا کردار ادا کیا تھا جو ان کی سب سے بڑی شناخت بنا۔

ببوبرال کے ساتھ ہی انہوں نے ایک فلم "شرطیہ میٹھے" بنائی ۔ مجموعی طور پر انہوں نے 500 کے قریب اسٹیج اور ٹی وی ڈرامے کئے۔ وہ رات رات بھر کام کرتے تھے جس سے ان کی صحت خراب ہونا شروع ہوگئی لیکن انہوں نے اس پر رتی برابر بھی توجہ نہ دی۔ پھر ان ہی دنوں ایک چھوٹے سے واقعے نے انہیں اتنا بددل کیا کہ وہ اسٹیج اور اداکاری کو خیرباد کہہ کر گوشہ نشین ہوگئے۔ زیادہ تر مزاروں پر رہنے لگے۔ ڈاڑھی رکھ لی، نماز کی پابندی کرنے لگے ۔

ان کی گزر اوقات ایک دکان کی آمدنی سے ہوتی تھی جو انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر کھولی تھی۔ انہیں بھی ہیپائٹس کا مرض لاحق تھا جوبلاخر جان لیوا ثابت ہوا۔

XS
SM
MD
LG