رسائی کے لنکس

نئی فلم 'دم مارو دم' بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ریلیز


نئی فلم 'دم مارو دم' بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ریلیز

نئی فلم 'دم مارو دم' بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ریلیز

کئی تنازعات کے بعد آخر کار ڈائریکڑ روہن سپی کی نئی فلم "دم مارودم" بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ریلیزہو گئی۔ یہ روہن سپی کی تیسری فلم ہے جوسیاحوں کی جنت کہی جانے والی سرزمین گوا میں منشیات کی دنیا اور اس کے دلفریب کاروبار کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کے ہیرو روہن کے بچپن کے دوست ابھیشیک بچن ہیں جبکہ دیگر فنکاروں میں بپاشا باسو، ودیا بالن، دپیکا پڈکون، رانا ، پراتیک ببر، ادتیہ پنچولی اور گووند نام دیوشامل ہیں۔

روڈیوسر رمیش سپی، ڈائریکٹر روہن سپی، شاعری کماراورموسیقی پریتم چکرورتی نے ترتیب دی ہے۔ روہن ، رمیش سپی کے بیٹے اور ابھیشیک بچن کے نہایت قریبی دوست ہیں۔ اس بات کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ روہن نے ابھی تک تین فلمیں بنائی ہیں اور ان تینوں کے ہیرو ابھیشیک بچن ہیں۔ روہن اور ابھیشیک کی پچھلی دونوں فلمیں " کچھ نہ کہو" اور " بلف ماسٹر" باکس آفس پر بری طرح ناکام رہی تھیں ۔

اپنی تیسری فلم یعنی "دم مارو دم" میں روہن سپی نے جو کردار ابھیشیک کو دیا ہے اس میں وہ کس حد تک فٹ نظر آتے ہیں ۔اور اس کا اعتراف ان کے نقادوں نے بھی کیا ہے۔ ہوسکتا ہے ابھیشک کی آنے والی فلمیں اسی طرح کامیاب ہوں جس طرح 'جونیئر بی' کے ڈیڈ' بگ بی' نے بھی اپنے شروعاتی کیرئیر میں مسلسل کئی نا کام فلموں کے بعد ایکدم ہٹ فلمیں دی تھیں ۔ خیر یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

" دم مارو دم" ستر کی دھائی میں بننے والی فلم " ہرے راما ،ہرے کرشنا" کے ٹائٹل سانگ سے لیا گیا عنوان ہے۔ اب" دم مارو دم" میں بھی ایک ٹائٹل سانگ ۔۔۔بلکہ اس سے بڑھ کر آئٹم سانگ ہے جو دپیکا پڈکون پر پکچرائز کیا گیا ہے۔ دپیکا اور دیویا بالن نے " دم مارو دم " میں مہمان اداکار کی حیثیت سے کام کیا ہے ورنہ فلم کی اصل ہیروئن بپاشا باسو ہیں۔

فلم کی کہانی کے مطابق ابھیشیک محکمہ پولیس میں انسپکٹر کے عہدے پر تعینات ہے ۔ایک حادثے میں اس کی بیوی اور بچہ ہلاک ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر پریشان رہتا ہے ۔ اسی دوران اسے ریاستی وزیر کی طرف سے گوا میں منشیات کے خاتمے کا مشن سونپا جاتاہے ۔ ابھیشیک اس کام کی ذمے داری اپنے ڈھنگ سے کرنے کی شرط پرقبول کرلیتاہے ۔

پراتیک ببر کی گرل فرینڈ کو بیرون ملک تعلیم کے لئے اسکالرشپ ملتی ہے اور وہ یورپ جانے کی تیاری میں لگ جاتی ہے ۔پراتیک بھی اس کے ساتھ یورپ جانے کے لئے ویزا اپلائی کرتا ہے مگر درخواست مسترد کردی جاتی ہے ۔اس کے باوجود وہ کوئی بھی راستہ اپنا کر یورپ جانے کی دھن میں ہے ۔اتفاق سے اس کی ملاقات ڈرگ مافیاسے تعلق رکھنے والے ایک ایسے آدمی سے ہوتی ہے جو اس کے یورپ جانے کے جنون کو بھانپ جاتا ہے۔ وہ پراتیک کو 15 ہزار ڈالرزکا لالچ دے کر اسے منشیات یورپ لے جانے پر آمادہ کرلیتا ہے مگرعین وقت پر ابھیشیک اسے ائیرپورٹ پہنچتے ہی گرفتار کرلیتا ہے۔

کہانی کا ایک اور اہم کردار ۔۔رانا ،شہر کے چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں گانے گا کر گزارا کررہا ہے مگر اس کی گرل فرینڈ بپاشا باسو اس کی سست رفتار ترقی سے بدل ہے ۔ وہ راتوں رات امیر بننے کے لئے شارٹ کٹ کی متلاشی ہے۔ وہ خود ائیرہوسٹس بننا چاہتی ہے مگرپیسہ نہ ہونے کے سبب یہ خواب پورا کرنے سے قاصر ہے۔ اسی اثناء میں اس کی ملاقات شہر کے ایک بڑے بزنس مین ادتیہ پنچولی سے ہوجاتی ہے ۔ ادتیہ اصل میں منشیات کا اسمگلر ہے مگر بپاشا اس بات سے بے خبر ہے۔ادتیہ بپاشا کو اس کا خواب پورا کرنے میں مدد دیتا ہے اور بالاخر وہ ائیرہوسٹس بن جاتی ہے ۔

ادتیہ بپاشا کی فلائٹ پر روانگی سے پہلے اس کے سامان میں منشیات چھادیتا ہے جو غیر متوقع طور پر ائیرپورٹ پر پکڑی جاتی ہے۔ بپاشا کو جیل ہوجاتی ہے ۔ جیل میں اس کی ملاقات پرتیک سے ہوتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے ہمدرد بن جاتے ہیں۔پرتیک بپاشا کو بے گنا ہ ثابت کرنے کا پلان بناتا ہے اور۔۔۔۔ یہیں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے ۔

پراتیک نے اچھی اداکاری کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اس میں اداکاری کے' جراثیم' موجود ہیں۔ ابھیشیک بات بات پر غصہ کرنے والا انسپکٹر دکھایا گیا لیکن وہ اپنے اس رول میں زیادہ کچھ نہیں کرسکے ۔ تاہم انہوں نے پچھلی فلموں کے مقابلے میں اس بار زیادہ محنت کی ہے۔ بپاشا پہلے بھی کئی فلموں میں اس طرح کی اداکاری کرچکی ہیں اس لئے ان کی اداکاری میں کوئی نیا پن نظر نہیں آتا۔ رانا، نو وارد ہیں لیکن اسکرپٹ میں ان کے کردار پر زیادہ محنت نہیں کی گئی ورنہ اداکاری کے لحاظ سے یہ سب سے پاور فل کردار ہوتا۔

کافی عرصے سے ہر تیسری فلم میں موسیقی کی کمان سنبھالنے والے پریتم چکرورتی نے ایک بار پھر مایوس کیا۔دپیکا پر پکچرائز کیا جانے والا آئٹم سانگ "دم مارو دم" ستر کی دھائی میں زینت امان پر فلمایا گیا تھا اور خوب فلمایا گیا تھا جبکہ نئے گیت کا اس سے مقابلہ بھی عبث ہے۔ سچ پوچھئے تو نئے گیت کا کریڈیٹ بھی آر ڈی برمن کو ہی جاتا ہے ۔

ڈائریکٹر روہن سپی نے اسکرپٹ کے بجائے لوکیشن اور کیمرہ ورک پر زیادہ کادھیان دیا ہے ۔ کہانی میں کردار تو کئی ہیں لیکن ان میں کوئی اپروچ نظر نہیں آتی۔ منشیات فروشوں کے مقابلے صرف دو لوگوں کی ٹیم کو سامنے لانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ فلم میں ذومعنی جملوں کی بھر مار ہے اس لئے فیملی کے ساتھ تو قطعی نہیں دیکھی جاسکتی۔

XS
SM
MD
LG