رسائی کے لنکس

نئی مزاحیہ فلم 'تین تھے بھائی' وقت گذارنے کے لیے بہترین


نئی مزاحیہ فلم 'تین تھے بھائی' وقت گذارنے کے لیے بہترین

نئی مزاحیہ فلم 'تین تھے بھائی' وقت گذارنے کے لیے بہترین

اگرچہ بھارت میں ان دنوں انڈین پریمیئر لیگ کی وجہ سے فلمیں دیکھنے والوں کی کمی ہے اور پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز بھی ایسی صورتحال میں اپنی فلم ریلیز کرکے کوئی رسک لینا نہیں چاہتے مگرانڈسٹری میں نئی فلمیں اسی تیزی سے تیار ہورہی ہیں۔ جیسے ہی آئی پی ایل ختم ہوگا ریلیز ہونے والے فلمیں کا سیلاب آجائے گا۔

فلمی مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کا نقصان یہ ہوگا کہ فلم بین تقسیم ہوجائیں گے۔ ایسے میں صرف انہی فلموں کو زیادہ ناظرین مل سکیں گے جن کی پبلسٹی زیادہ ہوگی۔

ایک حسین اتفاق ہے کہ رکی ہوئی فلموں میں زیادہ تر ہلکے پھلکے موضوعات پرمبنی ہیں، جنہیں آپ مزاحیہ فلم بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک فلم ’تین تھے بھائی‘ بھی ہے ۔ اس فلم کی کہا نی تین بھائیوں چکسی (اوم پوری)، پیپی (دیپک ڈوبریال) اور فینسی سنگھ (شریس تل پڑے) کے گرد گھومتی ہے جو بھٹنڈا، پنجاب میں رہتے ہیں۔ تینو ں کے مزاج الگ ہیں، زندگی کو دیکھنے کا انداز بھی جدا ہے ۔ یہ تینوں ایک دوسرےسے متضاد ہیں اور کسی طور بھی ایک ساتھ، ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔

مگر قسمت انہیں اکٹھا رہنے پر مجبور کرہی دیتی ہے۔ ان کے دادا کی وصیت ہے کہ تینوں بھائیوں کو 17 کروڑ روپے کی جائیداد کے حصول کے لئے چندی گڑھ کے پاس ایک پہاڑی علاقے میں واقع آبائی گھر میں ایک ساتھ رہنا ہوگا ورنہ جائیدادکسی اور کے حصے میں چلی جائے گی۔ تینوں بھائی نہ چاہتے ہوئے بھی محض جائیداد کے لالچ میں ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں لیکن اس کے بعد جو واقعات اور حادثات رونما ہوتے ہیں اس کا اندازہ کسی نے بھی نہیں لگایا تھا۔ یہ واقعات دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

’تین تھے بھائی‘ کے فلمساز راکیش اوم پرکاش مہرہ ہیں جو اس سے قبل فلم ’رنگ دے بسنتی‘ اور’ دلی6‘ جیسی کامیاب فلمیں دے چکے ہیں۔ ان کے نام پر فلم کو ناظرین کی اچھی خاصی تعدادمل جائے گی۔ فلم کااسکرین پلے کمزور ہے۔ کہیں کہیں ڈائریکشن کی کمزوریاں بھی واضح نظر آتی ہیں۔ فلم کے ابتدائی بیس منٹ ناظرین کو سیٹ سے ہلنے نہیں دیتے تاہم باقی فلم میں بوریت کے سوا کچھ نہیں۔ بہترین فنکار بھی کمزور کہانی کی وجہ سے اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوپائے۔

اوم پوری نے پنجابی لہجے میں بہت ہی خوب صورت انداز میں مکالمے ادا کئے ہیں۔ دیپک ڈوبریال نے اپنے کردار میں ڈوب کر اداکاری کی ہے۔ تل پڑے کی اداکاری بھی قابل تعریف ہے۔ راگنی کھنہ کو اداکاری میں ا بھی بہت سی چیزیں سیکھنا ہوں گی۔

مگ ڈیپ سنگھ لامبا نے اپنی پہلی ڈائریکشن سے مایوس کیاہے خاص کر انٹرول کے بعد فلم کی کہانی بے دم ہوجاتی ہے جس سے دیکھنے والا بور ہونے لگتا ہے۔

فلم کا میوزک اچھا ہے خاص کر دلیرمہدی کا تیار کردہ بیک گراوٴنڈ میوزک اچھا ہے ۔ سنیماآٹوگرافی ٹھیک ہے۔ کچھ ڈائیلاگ متاثر کن ہیں تاہم ایڈیٹنگ مزید اچھے انداز میں ہوسکتی تھی۔ فلم کے کچھ ڈائیلاگ مزاحیہ ہیں جو ہنسنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ لوکیشنز اچھی ہیں۔

XS
SM
MD
LG