رسائی کے لنکس

ماہر ِ بشریات کیلب ایویرٹ نے نوٹ کیا کہ 87٪ ایسی زبانیں جس میں الفاظ کی ادائیگی کے لیے گلے کے نچلے حصے کو دبا کر ادا کرنا پڑتا ہے، بلند مقامات پر بولی جاتی ہیں۔

دنیا بھر میں تقریباً 7,000 زبانیں بولی جاتی ہیں اور زبانیں مستقل بنیادوں پر بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن ماہرین ابھی تک یہ راز دریافت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ زبانیں مروجہ انداز میں ہی کیوں بدلتی ہیں؟ یونیورسٹی آف میامی سے تعلق رکھنے والے ماہر ِ بشریات کیلب ایویرٹ کا ماننا ہے کہ انسان کا ماحول اس کے بولنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

کیلب ایویرٹ نے اندازہ لگایا کہ وہ زبانیں جن میں گلے کے نچلے حصے کو دبا کر مخرج ادا کرنے پڑے، ان زبانوں میں کیا چیز مشترک ہے؟ ان کے قیاس میں اس کی ایک وجہ بلندی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ بلندی پر ہوا کا دباؤ کم ہوتا ہے اور بلندی پر گلے سے ایسے حروف ادا کرنے کے لیے زیادہ زور نہیں لگانا پڑتا۔

کیلب ایویرٹ نے 600 زبانوں پر معلومات اکٹھی کیں۔ ان میں 92 زبانیں ایسی تھیں جس میں گلے کے نچلے حصے کو دبا کر حروف ادا کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد کیلب ایویرٹ نے ان زبانوں کے ممالک کی اونچائی کا جائزہ لیا۔

کیلب ایویرٹ کو معلوم ہوا کہ 87٪ ایسی زبانیں جس میں الفاظ کی ادائیگی کے لیے گلے کے نچلے حصے کو دبا کر ادا کرنا پڑتا ہے، بلند مقامات پر بولی جاتی ہیں۔ یہ تمام ممالک یا علاقے سطح ِ سمندر سے کم از کم 1,500 میٹر کی بلندی پر واقع تھے۔

کیلب ایویرٹ کا کہنا ہے کہ یہ محض ان کا مشاہدہ ہے اور وہ یہ بات وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ مقامات کی بلندی اور زبانوں کا آپس میں کیا ربط ہے؟ کیلب ایویرٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ محض ایک حسن ِ اتفاق ہی ہو۔

ماہر ِ بشریات کیلب ایویرٹ کا کہنا ہے کہ ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کے لیے مستقبل میں مزید تجربات کرنا ضروری ہے۔
XS
SM
MD
LG