رسائی کے لنکس

مصر: انتخابات کے پہلے مرحلے کا پرامن آغاز

  • الزبتھ ایروٹ

رواں برس فروری میں صدر حسنی مبارک کے عشروں طویل آمرانہ اقتدار کے خاتمے کے بعد مصر میں پیر کو پہلے عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔

رواں برس فروری میں صدر حسنی مبارک کے عشروں طویل آمرانہ اقتدار کے خاتمے کے بعد مصر میں پیر کو پہلے عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔

پارلیمان کے ایوانِ زیریں کے انتخاب کا پیر کو شروع ہونے والا یہ سلسلہ جنوری کے اوائل تک جاری رہے گا جس کے بعد مارچ تک ایوانِ بالا کے انتخابات ہوں گے۔

تاہم انتخابی عمل کے اس طویل دورانیے اور پیچیدگی کے باوجود عام مصری شہریوں نے انتخابی عمل میں جوش و خروش سے حصہ لیا اور اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

دارالحکومت قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں جمع ہونے والے فوج مخالف مظاہرین پر گزشتہ دنوں کیے گئے حکومتی تشدد کے باوجود دارالحکومت اور ملک کے کئی علاقوں میں پیر کو ہونے والی انتخابات کے پہلے مرحلے کا پرامن انعقاد ہوا جس کے دوران کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

تین ماہ طویل اس انتخابی عمل کو گزشتہ چھ دہائیوں سے فوجی حکومتوں کے زیرِ تسلط رہنے والے مصر کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے۔

ایک مصری سیاسی مبصر حسن نافعی کا کہنا ہے کہ انتخابات کے اس عمل کے نتیجے میں مصری عوام کو پہلی بار یہ جاننے کا موقع ملے گا کہ درحقیقت ان کی اکثریت کسے اپنی نمائندگی کا اختیار سونپنا چاہتی ہے۔

ملک کی سب سے منظم جماعت 'اخوان المسلمون' کی حمایت یافتہ سیاسی جماعت 'فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی' کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اسکندریہ کے ان دو اضلاع میں بیلٹ پیپر دوپہر تک نہیں پہنچے تھے جنہیں دینی جماعتوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ فوج ان سے تعاون کر رہی ہے اور پولینگ اسٹیشنوں پر سیکیورٹی کی صورتِ حال بہتر بنانے میں مدد کر رہی ہے، جو ان کے بقول، "ایک اہم پیش رفت" ہے۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مصر کی دونوں بڑی مذہبی جماعتیں – فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی اور قدرے بنیاد پرست جماعت 'سلافسٹس' کی حمایت یافتہ النور پارٹی – انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکتی ہیں۔

قاہرہ کے ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر رائے دہندگان کی قطار میں کھڑی برقع پوش مروا محمد 'سلافسٹس' کی حامی ہیں جن کے بارے میں انہیں امید ہے کہ وہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے۔

لیکن اسی قطار میں کھڑی ایک اور حجاب پوش خاتون مریم کو امید ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں ایک مقبول حکومت وجود میں آئے گی۔ مریم - جو پیشے کے اعتبار سے دندان ساز ہیں - کی خواہش ہے کہ انقلاب کی وجہ بننے والی عوامی تحریک کی لہر آئندہ بھی برقرار رہے۔

لیکن تجزیہ کار نافعی کا خیال ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی پارلیمان کمزور ہوگی کیوں کہ اسے اپنے وجود کے ساتھ ہی آئین سازی جیسا بڑا چیلنج درپیش ہوگا اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب فوج بدستور اپنی حکمرانی پہ مصر ہے۔

مصر میں انتخابات کے اس پہلے مرحلے کا اختتام منگل کو ہوگا جس کے بعد آئندہ دو ہفتوں تک اکثریتی امیدواران کے درمیان مقابلوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ملک کے باقی ماندہ حصوں میں ووٹنگ آئندہ ماہ ہوگی۔

XS
SM
MD
LG