رسائی کے لنکس

مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے حالیہ بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں یہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ارودان نے شام کے کرد جنگجووں "وائے پی جی" کی حمایت پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو کہ نیٹو کے دو اتحادی ممالک کے مابین داعش کے خلاف جنگ کے معاملے پر اختلافات کی ایک تازہ مثال ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربے نے رواں ہفتے وائی پی جی کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ داعش کے خلاف اس گروپ نے اپنی کارکردگی ثابت کی ہے اور امریکہ اس کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔

جمعرات کو ترک صدر اردوان نے اس بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ماننا تھا کہ امریکہ اس پر نظر ثانی کرے گا جو ان کے بقول "غلط نقطہ نظر ہے"۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی داعش سمیت وائے پی جی اور پی کے کے کو بھی دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔

وائے پی جی شام میں قائم ایک سیاسی گروپ ہے جو کہ "پی کے کے" کے ساتھ ماضی میں وابستہ رہا۔ پی کے کے گروپ ترکی میں ہیں اور وہ اپنے حقوق کے لیے ترک سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسر پیکار رہا ہے۔

ترکی، امریکہ اور یورپی یونین 'پی کے کے' کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں لیکن واشنگٹن وائے پی جی کو اس زمرے میں شامل نہیں سمجھتا۔

رواں ماہ ایک سینیئر ترک سفارتکار نے کہا تھا کہ انجرلک کے فضائی اڈے سے داعش کے خلاف کارروائیاں کرنے والے امریکی لڑاکا طیاروں کے مشن کو وائے پی جی کی حمایت کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔

ترک اخبار 'جمہوریت' اور ویب سائیٹ ' ال مونیٹر' میں سیاسی امور کے کالم نگار سمیع ادز کہتے ہیں کہ ایسی رکاوٹیں داعش کے خلاف اس فضائی اڈے کی افادیت سے متعلق امریکی امیدوں کے لیے دھچکہ ہیں۔

"امریکہ کی جانب کسی حد تک بے چینی پائی جاتی ہے اور انھیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ شاید انھیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ انجرلک پانسہ پلٹ دینے والا ثابت نہیں ہوا۔ صرف فضائی کارروائیوں سے مقاصد حل نہیں ہوں گے اور میرا خیال ہے کہ واشنگٹن شام میں زمینی لڑائی کے لیے کردوں کی اہمیت کو کھونا نہیں چاہتا۔"

لیکن اگر واشنگٹن اگر شامی کرد ملیشیا کی حمایت بڑھانے کے لیے اقدام کرتا ہے تو اس سے ترکی کے ساتھ تعلقات تعلقات مزید تناو کا شکار ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے حالیہ بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں یہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

XS
SM
MD
LG