رسائی کے لنکس

ترک وزیر اعظم نے متعدد مظاہرین کی جانب سے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کیا جن میں اُن کے رویے کو آمرانہ بتایا گیا تھا

ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے اپنےلاکھوں حامیوں سے کہا ہے کہ یہ اُن کی ’ذمہ داری‘ ہے کہ ہنگامہ کرنے والوں کو استنبول کے پارک سے باہر نکالیں، ایسے میں جب شہر کے وسط میں بلووں سے نمٹنے پر مامور پولیس نے حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے استعمال کیے۔

اتوار کے روز انتخابی مہم کی طرح کی ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر اردگان نے کہا کہ دو ہفتے سےسڑکوں پر جاری احتجاج میں ’دہشت گرد‘ ملوث ہیں۔

اُنھوں نے اِس قسم کے مشوروں کو مسترد کیا کہ اُن کا رویہ آمرانہ ہے، جِس کا الزام متعدد مظاہرین اُن پر لگاتے رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے مظاہرین سے نبردآزما ہونے کے سلسلے میں اُن کی حکومت کی پالیسی پر کی جانے والی نکتہ چینی پر غیر ملکی میڈیا کی رپورٹنگ پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث بین الاقوامی سطح پر اُن کی شہرت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔

ایسے میں جب وہ تقریر کر رہے تھے، استنبول کے وسط میں ہزاروں حکومت مخالف مظاہرین پر بلوے سے نمٹنے پر مامور ترک پولیس آنسو گیس کے گولے پھنکتی رہی، اس کوشش میں کہ رات سخت کارروائی کے بعد وہ پھر سے وہاں اکٹھے نہ ہو پائیں۔

احتجاج کرنے والے، گیزی پارک مہم کےاتحاد نے مظاہرین سے پُرامن طور پر قریبی تقسیم پارک میں جمع ہونے کی کال دی تھی، لیکن استنبول کے گورنر، حسین آونی موتلو نے کہا کہ اُنھیں ایسا کرنے سے باز رکھا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG