رسائی کے لنکس

ترک صدر کی طرف سے سزائے موت بحال کرنے کا عندیہ


صدر رجب طیب اردوان (فائل فوٹو)

صدر رجب طیب اردوان (فائل فوٹو)

یورپی یونین کے عہدیداروں نے اس بیان کے تناظر میں کہا کہ اگر نقرہ نے سزائے موت بحال کی تو ترکی کے یورپی یونین میں شامل ہونے کی بات چیت ختم ہو جائے گی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اگر ترک عوام مطالبہ کریں اور پارلیمان ضروری قانون سازی کو منظور کرے تو وہ موت کی سزائے بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے یہ بات منگل کو علی الصبح استنبول میں اپنی رہائش گاہ کے باہر جمع ہونے والے ان سیکڑوں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو گزشتہ ہفتے کی ناکام بغاوت کے تناظر میں سزائے موت بحال کرنے کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

صدر اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی "قانونی کی بالادستی کے تحت چلنے والی ایک جمہوری ریاست ہے"، اور "آپ عوام کے مطابق کو ایک طرف نہیں رکھ سکتے۔"

یورپی یونین کے عہدیداروں نے اس بیان کے تناظر میں کہا کہ اگر نقرہ نے سزائے موت بحال کی تو ترکی کے یورپی یونین میں شامل ہونے کی بات چیت ختم ہو جائے گی۔

ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ "آج کیا امریکہ، روس، چین اور دنیا کے دیگر ملکوں میں موت کی سزا نہیں ہے؟ صرف یورپی یونین کے ممالک ہیں جہاں یہ سزا نہیں (دی جاتی)۔"

ان کے بقول وہ اپنی قومی سلامتی کونسل سے بدھ کو ملاقات کر رہے ہیں۔

گزشتہ جمعہ کو فوج کے ایک گروپ نے ترکی میں بغاوت کی کوشش کی تھی جسے خاص طور پر عوام نے سڑکوں پر نکل کر ناکام بنا دیا۔ اس دران 160 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی بھی ہوئے جب کہ بغاوت میں حصہ لینے والے ہزاروں افسران و اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

دریں اثناء ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'انادولو' نے بتایا ہے کہ عدالتوں نے ناکام بغاوت میں کردار کے الزام میں 85 جنرلز اور ایڈمرلز کو جیل بھیج دیا ہے جب کہ درجنوں اہلکاروں سے ابھی پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے۔

انادولو کے مطابق باضابطہ طور پر گرفتار کیے جانے والوں میں ایئرفورس کے سابق کمانڈر جنرل اکن اوزترک بھی شامل ہیں جن کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ وہ بغاوت کے مبینہ منصوبہ ساز ہیں، تاہم وہ اس الزام کو مسترد کر چکے ہیں۔

فوج کی سیکنڈ آرمی کے کمانڈر جنرل آدم ہودودی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ فورس شام، عراق اور ایران سے ترکی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG