رسائی کے لنکس

’اب کوئی گانا ریکارڈ ہوتے ہی فوری طور پر انٹرنیٹ پر آجاتا ہے۔جس بات نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پھر سکیورٹی کی حالت یہ ہے کہ جو فنکار سال میں100شو کیا کرتے تھے، وہ اب مشکل سے چھ سات شو کرتے ہیں؟‘

عطا اللہ عیسیٰ خیلوی اُن فنکاروں کی صف میں کھڑے ہیں جنھوں نے برسوں لوگوں کی دلوں پر راج کیا اور آج بھی اُن کے گیت ماضی کر طرح مقبول ہیں۔

گو کہ اس عوامی فنکار نے اپنے فن کا آغاز ایک سرائیکی گلوکار کی حیثیت سے کیا لیکن مختصر عرصے میں وہ اردو، پنجابی، سندھی اور بلوچی زبانوں میں اتنے مقبول ہوئے کہ پاکستان اور بیرن ملک لاکھوں لوگوں کو اپنا مداح بنا لیا۔

سنہ 1951میں میانوالی کے نیازی قبیلے میں پیدا ہونے والے اس معروف گلوکار کا موسیقی سے اس قدر لگاؤ تھا کہ بچپن میں والدین کی ڈانٹ بھی اُنھیں موسیقی کے ریاض سے نہ روک سکی۔

اور، پھر ایسا وقت بھی آیا کہ لوگ موسیقی میں عطااللہ عیسیٰ خیلوی کے گیتوں کی دھوم مچ گئی۔

’وائس آف امریکہ‘ سےایک انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ کیسٹ کا دور بہت آسان دور تھا جس کی مدد سے ایک گلوکار عوام کے سامنا آجاتا تھا۔ ’اب انٹرنیٹ نے ہم سے یہ ذریعہ چھین لیا ہے۔۔۔اب ، کوئی گانا ریکارڈ ہوتے ہی فوری طور پرانٹرنیٹ پر آجاتا ہے۔۔۔جس بات نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔۔ پھر،سکیورٹی کی حالت یہ ہے کہ جو فنکار سال میں100شو کیا کرتے تھے، وہ اب مشکل سے چھ سات شو کرتے ہیں؟‘

تفصیل آڈیو رپورٹ میں:

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG