رسائی کے لنکس

امریکہ، یورپی یونین اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس


افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی (فائل فوٹو)

افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی (فائل فوٹو)

تینوں ممالک کے اعلیٰ عہدیدار اسلام آباد میں منعقدہ ’ہارٹ آف ایشیا‘ کے وزارتی سطح کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان میں ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ، یورپی یونین اور افغانستان کا اہم سہ فریقی اجلاس ہوا۔

اس اجلاس میں افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی، امریکی نائب وزیر خارجہ انٹونی جے بلنکن اور یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیلگا شمڈ نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔

تینوں ممالک کے اعلیٰ عہدیدار اسلام آباد میں منعقدہ ’ہارٹ آف ایشیا‘ کے وزارتی سطح کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان میں ہیں۔

امریکی سفارت خانے سے جاری ایک بیان کے مطابق بات چیت میں 2016 میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا اور بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں افغانستان سے متعلق ہونے والی کانفرنسوں کی تیاریوں اور خطے کی موجودہ سلامتی و معاشی صورتحال پر بات چیت بھی کی گئی۔

امریکہ اور افغانستان نے اکتوبر 2016ء میں برسلز میں افغانستان کے بارے میں کانفرنس کی میزبانی پر یورپی یونین کا شکریہ ادا کیا۔

بیان کے مطابق تینوں فریقوں نے برسلز کانفرنس کی تیاریوں میں مدد فراہم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا کہا افغان حکومت اور امداد دینے والے ملکوں کی کوششیں باہمی احتساب کی روح سے ہم آہنگ ہوں۔

سہ فریقی اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ برسلز اور وارسا میں ہونے والے اجلاس افغان حکومت کی جانب سے اصلاحات اور نظم ونسق کے نصب العین کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرنے کے حوالے سے اہم مواقع فراہم کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ افغان حکومت کی طرف سے اصلاحات لانے کے وعدوں کے بعد آئندہ سال ہونے والی کانفرنسوں میں امداد دینے والے ممالک کو اس بارے میں آمادہ کرنے میں مدد ملے گی کہ وہ افغانستان کے لیے سلامتی اور ترقیاتی اعانت میں اضافہ کریں۔

سہ فریقی اجلاس میں وفود نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں کانفرنسوں کی تیاری میں افغان حکومت کو مرکزی کردار دینے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ بین الاقوامی حلیفوں پر بھی زور دیا گیا کہ وہ ان کانفرنسوں کی روشنی میں افغانستان کو زبردست اعانت فراہم کرنے کا عہد کریں۔

افغانستان، یورپی یونین اور امریکہ نے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں علاقائی ممالک کی طرف سے اعلیٰ سطح پر شرکت کا خیر مقدم کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ہارٹ آف ایشیا‘ سے حلیف ممالک کو مشترکہ مسائل سے نمٹنے اور باہمی طور پر مسائل کا مفید حل تلاش کرنے کا موقع ملا۔

XS
SM
MD
LG