رسائی کے لنکس

شدت پسندی کے خلاف عرب ملکوں سے مدد کی اپیل


بیلجئم کے شہر برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفتر کے سامنے مسلح فوجی اہلکار تعینات ہیں

بیلجئم کے شہر برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفتر کے سامنے مسلح فوجی اہلکار تعینات ہیں

پیر کو برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی نے بھی خصوصی شرکت کی۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے عرب ملکوں سے تعاون کی خواہش مند ہے۔

اس بات کا اعلان پیر کو برسلز میں یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے بعد کیا گیا ہے جس میں پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد یورپ کی سکیورٹی کی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔

اجلاس کے بعد یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈیریکا موغیرینی نے صحافیوں کو بتایا کہ یونین کے رکن ممالک ممکنہ دہشت گرد حملوں کو روکنے کے لیے عرب ملکوں کے ساتھ قریبی تعاون کے خواہش مند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیرس حملے وہ واحد خطرہ نہیں جس کا یورپ کو سامنا ہے بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اس طرح کے رجحانات فروغ پا رہے ہیں جن میں سے بیشتر کا آغاز مسلمان ملکوں سے ہوتا ہے۔

یورپی یونین کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان رجحانات کے سدِ باب کے لیے یورپی اور عرب ملکوں کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

اجلاس کے بعد صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں برطانوی وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا کہ یورپ خود کو محفوظ بنانے کے لیے ہر وہ قدم اٹھانے کو تیار ہے جس کی ضرورت محسوس کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ملکوں کے سکیورٹی حکام ممکنہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے موثر طریقے وضع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس ضمن میں ہوائی جہازوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی زیرِ غور ہے۔

خیال رہے کہ پیرس میں دہشت گرد حملوں اور بیلجئم میں مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر پولیس کے چھاپوں اور ملزمان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے واقعات کے بعد یورپ بھر میں سکیورٹی سے متعلق خدشات سر اٹھا رہے ہیں۔

پیرس حملوں کے لگ بھگ دو ہفتے بعد بھی بیشتر یورپی ملکوں میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور ممکنہ دہشت گرد حملوں کے خطرے کے پیشِ نظر درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جارہی ہے۔

XS
SM
MD
LG