رسائی کے لنکس

مزید آٹھ مجرموں کو پھانسی، یورپی یونین کا اظہار تشویش


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یورپی یونین کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پھانسیوں پر سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد جس رفتار سے اس پر عملدرآمد شروع کیا گیا ہے اس پر اسے شدید تشویش ہے۔

پاکستان میں ماہ رمضان کے بعد سزائے موت کے مجرموں کی پھانسیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جب کہ یورپی یونین نے ایک بار پھر پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سزائے موت پر عملدرآمد پر فوری طور پر پابندی عائد کرے۔

گزشتہ دسمبر میں تقریباً چھ سال کے تعطل کے بعد مجروں کی پھانسیوں پر عملدرآمد شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جو کہ اولاً صرف دہشت گردی کے جرائم میں سزائے موت کے مرتکب مجرموں کے لیے تھا لیکن بعد میں اس کا اطلاق کسی بھی جرم میں پھانسی کی سزا پانے والوں تک بڑھا دیا گیا۔

اب تک 170 سے زائد مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے اور ان میں بھی اکثریت دہشت گردی کی بجائے دیگر سنگین جرائم میں سزائے موت کے مرتکب مجرموں کی ہے۔

بدھ کو صوبہ پنجاب میں اٹک، گجرات، سرگودھا، جھنگ، قصور اور ملتان کی جیلوں میں جن قیدیوں کو پھانسیاں دی گئیں وہ تمام قتل کے جرم میں برسوں پہلے اس سزا کے مرتکب قرار پائے تھے اور تمام عدالتوں سے ان کی اپیلیں مسترد ہو چکی تھیں۔

حکومت نے جون کے وسط میں رمضان کے مہینے کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک ماہ کے لیے پھانسیوں پر پابندی عائد کی تھی اور گزشتہ ہفتے رمضان ختم ہونے کے بعد سے اب تک دس مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔

یورپی یونین، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں سزائے موت پر عملدرآمد پر پابندی ختم کیے جانے پر پاکستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس فیصلے کو واپس لینے کا کہتی آئی ہیں۔

لیکن حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش مخصوص حالات خصوصاً سلامتی کے معاملات کے پیش نظر قانون کے مطابق دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔

بدھ کو یورپی یونین کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پھانسیوں پر سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد جس رفتار سے اس پر عملدرآمد شروع کیا گیا ہے اس پر اسے شدید تشویش ہے۔

بیان میں ایک بار پھر پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پاس کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں پھانسیوں پر عملدرآمد پر پابندی عائد کرے۔

یورپی یونین کے اس تازہ بیان پر پاکستان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن دفترخارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ ایسے ہی مطالبات اور تشویش پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک قانون کے مطابق دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد کر کے کسی بھی بین الاقوامی قانون اور میثاق کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہو رہا۔

XS
SM
MD
LG