رسائی کے لنکس

یورپی عدالت کا غیر ملکی تارکین وطن کے حق میں فیصلہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یورپ کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے بڑے پیمانے پر آنے والے تارکین وطن کے مسئلے کا سامنا ہے۔

یورپی عدالت انصاف کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یورپی ملک صرف اس بنا پر غیر ملکیوں کو جیل میں نہیں رکھ سکتے کہ وہ 26 ملکوں پر مشتمل پاسپورٹ فری زون ک اندر سرحدوں کو غیر قانونی طور پر پار کر کے داخل ہوئے ہیں۔

لکسمبرگ میں قائم عدالت نے کہا کہ یورپی یونین کے قوانین ایسی گرفتاریوں کی اجازت نہیں دیتے جب تک کسی غیر ملکی تارک وطن پر کسی جرم کے ارتکاب کا شبہ نہ ہو یا اسے ملک بدری کی کارروائی کا سامنا نہ ہو۔

اس فیصلے کے اثرات فوری طور پر واضح نہیں ہیں۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یورپ کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے بڑے پیمانے پر آنے والے تارکین وطن کے مسئلے کا سامنا ہے۔

یہ فیصلہ گھانا کی شہری سیلنا ایفون کے مقدمے میں سنایا گیا ہے جسے 2013 میں فرانسیسی پولیس نے 'چینل ٹنل' سے حراست میں لیا تھا جب وہ بس کے ذریعے بیلجیئم سے برطانیہ کسی دوسرے شخص کی پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھی۔

فرانسیسی پولس نے ان پر فرانس میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا الزام عائد کیا اور بعد ازاں بیلجیئم سے انہیں واپس لینے کے لیے کہا گیا۔ ان کے وکلاء نے ان کی گرفتاری کو عدالت میں چیلنج کر دیا۔

وکلا کا موقف تھا کہ اس معاملے میں غیر قانونی تارکین وطن کی منتقلی سے متعلق یورپی یونین کے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

گزشتہ 18 ماہ کے دوران 10 لاکھ سے زائد غیر یورپی تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے شینجن زون کے متعلق قوانین کا وہ حکومتیں بڑی سختی سے جائزہ لے رہی ہیں جو تارکین وطن کی آمد کو روکنا چاہتی ہیں۔

بلقان کی ریاستوں سمیت چند ایک شینجن ممالک نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے بارڈر کنڑول پر دوبارہ عمل درآمد شروع کر دیا ہے جو ایک دہائی پہلے ختم کردیئے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG