رسائی کے لنکس

یورپی یونین: جہاز میں لیپ ٹاپ لے جانے پر پابندی، فوری بات چیت کا مطالبہ 


فائل فوٹو

جہاز میں دوران سفر لیپ ٹاپ لے جانے پر پابندی میں ممکنہ توسیع میں بعض یورپی ملکوں کو شامل کرنے کے معاملے پر یورپی یونین نے امریکہ سے فوری بات چیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی درپیش خطرہ ایک مشترکہ معاملہ ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس پابندی میں توسیع کرنا چاہتی ہے جو پہلے ہی 10 ملکوں سے آنے والی پروازوں پر عائد ہے جن میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، ترکی بھی شامل ہیں۔

یہ پابندی اس خدشہ کی وجہ سے عائد کی گئی تھی کہ برقی آلات میں بم چھپا کر جہاز کے اندر لے جایا جا سکتا ہے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری جان کیلی ٹرانسپورٹ کی سیکرٹری الین چاؤ کے نام لکھے جانے والے خط جسے روئیٹرز نے بھی دیکھا ہے میں یورپی عہدیداروں نے کہا ہے کہ یہ اہم ہے کہ یورپی یونین کے ہوائی اڈوں سے متعلق ممکنہ سکیورٹی خطرات سے آگاہ کیا جائے۔

یورپی یونین کی ٹرانسپورٹ کمشنر وائلیتا بلک، مائیگریشن اور امور داخلہ کے کمشنر دیمتریس اورموپولس نے خط میں لکھا کہ "ہم تعمیری بات چیت کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے یہ تجویز دیتے ہیں کہ یہ اجلاس سیاسی اور تکنیکی سطح پر فوری ضرورت کے تحت منعقد کیے جائیں تاکہ مشترکہ طور پر خطرے اور ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔"

اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ کس طرح کی پابندی کے عائد ہونے سے لفتھانسا، برٹش ائیر ویز، ائیر فرانس۔ کے ایل ایم جیسی بڑی یورپی فضائی کمپنیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

فضائی صنعت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ائیرپورٹس اور فضائی کمپنیاں ممکنہ ضروری اقدامات کرنے کے معاملے پر کام کر رہی ہیں۔

امریکہ نے یہ پابندی رواں سال مارچ میں عائد کی تھی اور اس کے بعد برطانیہ نے بھی ایسی ہی پابندی عائد کر دی تاہم یہ مختلف روٹس پر عائد کی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG