رسائی کے لنکس

یورپی یونین نے برطرف صدر یانوکووچ کے اثاثے منجمد کردیے


وکٹر یانوکووچ

وکٹر یانوکووچ

ادھر اطلاعات کے مطابق کریمیا کے نئے رہنما کا کہنا ہے کہ روس نواز فورسز نے جزیرہ نما کے تمام اسٹریٹیجک راستوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے.

یورپی یونین نے یوکرین کے برطرف صدر وکٹر یانوکووچ اور ان کی سابقہ حکومت کے 17 دیگر عہدیداروں کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

خبررساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق یہ اقدام ان عہدیداروں کے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سرکاری رقوم کے غلط استعمال کا مرتکب ہونے پر کیا گیا۔

ان افراد میں سابق وزیراعظم میکولا ازاروف کے علاوہ یوکرین کی سکیورٹی سروسز کے سابق سربراہ، سابق پراسیکیوٹر جنرل اور سابق وزرائے داخلہ و انصاف بھی شامل ہیں۔

ادھر اطلاعات کے مطابق کریمیا کے نئے رہنما کا کہنا ہے کہ روس نواز فورسز نے جزیرہ نما کے تمام اسٹریٹیجک راستوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور ابھی تک ہتھیار نہ پھینکنے والی یوکرین کی افواج کے اڈوں تک رسائی کو بند کر دیا ہے۔

سرگئی اکسیونوف کا کہنا تھا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تقریباً سول ڈیفنس کے 11 ہزار اہلکار بھی مل گئے ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ تمام یا ان کی اکثریت روسی ہے۔

لیکن صدر ولادیمر پوٹن اور وزیر دفاع اس بات سے انکار کر چکے ہیں کہ وہ علاقے میں اپنے فوجی بھیج رہے ہیں۔

مغربی ممالک نے یوکرین کے ساتھ مل کر روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کریمیا سے اپنی فوج واپس بلائے لیکن تاحال اس ضمن میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

کریمیا بھیجے گئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کو ایک درجن سے زائد مسلح افراد نے ڈرایا دھمکایا اور بعض اطلاعات کے مطابق انھیں ایک ریستوران میں پناہ لینا پڑی۔

یوکرین میں بحران کے حل کے لیے بدھ کو شروع ہونے والی بین الاقوامی کوششیں جمعرات کو بھی جاری رہیں گی۔

بدھ کو امریکہ، روس اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان پیرس میں طویل ملاقاتوں کو سلسلہ جاری رہا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ تمام فریقین بشمول روس یوکرین کی صورتحال کا پرامن حل چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں سے وابستہ توقعات غیر حقیقی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے روم میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر پھر ملاقات کریں اور کیری کے بقول اس میں ’’کچھ تعمیری اور مناسب خیالات‘‘ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

روس کے وزیرخارجہ لاوروف کا کہنا تھا کہ مغرب ایک بار پھر یوکرین کی صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور ان کے بقول یہ پالیسی ’’سنجیدہ‘‘ نہیں ہے۔
XS
SM
MD
LG