رسائی کے لنکس

یورپی یونین ایرانی تیل کی برآمد معطل کرنے پہ متفق


یورپی یونین ایرانی تیل کی برآمد معطل کرنے پہ متفق

یورپی یونین ایرانی تیل کی برآمد معطل کرنے پہ متفق

امریکی محکمہ ٴخارجہ کی ترجمان نےا یران سےتیل کی برآمدات پرپابندی عائدکرنے کے فیصلے پر یورپی ممالک کے اتفاقِ رائے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ممالک کو بھی "ایران کا معاشی ناطقہ بند کرنے کے لیے" اسی نوعیت کے اقدامات کرناچاہئیں

ایران کو اپنا متنازع جوہری پروگرام روکنے پہ مجبور کرنے کے لیےجاری مغربی مہم کے تحت یورپی یونین کے رکن ممالک نے ایران سے تیل کی برآمدات پہ پابندی عائد کرنے پہ اتفاق کرلیا ہے۔

یورپی سفارت کاروں نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ یورپی ممالک کے27 رکنی اتحاد نے ایران سے تیل کی برآمدات کی معطلی پر اصولی اتفاق کرلیا ہے، تاہم اِس معطلی کے اطلاق کی تاریخ طے کرنے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے۔

فرانس کا مطالبہ ہے کہ یورپی یونین کےوزرائےخارجہ 30 جنوری کے اپنے طے شدہ اجلاس تک پابندی کے نفاذ کی تاریخ طے کرلیں۔

یاد رہے کہ مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ایران پرامن شہری مقاصد کی آڑ میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ تاہم، تہران حکومت اِس الزام کی تردید کرتی آئی ہے۔

امریکی محکمہ ٴخارجہ کی خاتون ترجمان وکٹوریا نولینڈ نےا یران سے تیل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر یورپی ممالک کے اتفاقِ رائے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ممالک کو بھی "ایران کا معاشی ناطقہ بند کرنے کے لیے" اسی نوعیت کے اقدامات کرنا چاہئیں۔

یورپی یونین کےرکن ممالک ایرانی تیل کےچند بڑےخریداروں میں سے ہیں جب کہ ایرانی حکومت اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ تیل کی تجارت سے حاصل کرتی ہے۔

چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ یورپ کو کی جانے والی برآمدات معطل ہوجانے کے بعد ایرانی حکومت نئے خریداروں کو راغب کرنے کے لیے تیل کی فروخت پر رعایتیں متعارف کراسکتی ہے۔

سفارت کاروں کے مطابق یونان اور اسپین سمیت ایران سے تیل کی بڑی مقدار درآمد کرنے والے ممالک کی جانب سے اپنے اعتراضات سے دستبرداری کے نتیجے میں ایرانی تیل کی یورپ کو برآمد پر پابندی کی راہ ہموار ہوسکی ہے۔

ترکی بھی ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے اور ترک وزیرِ خارجہ احمت اوغلو بدھ کو تہران پہنچے ہیں جہاں وہ ایرانی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، عراق میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی اور شام میں جاری بحران سمیت دیگرعلاقائی امور پرتبادلہ خیال کریں گے۔

XS
SM
MD
LG