رسائی کے لنکس

یورپی یونین کی ’سرحدی اور ساحلی محافظوں‘ کے ادارے کی منظوری


اِن منصوبوں کے تحت قومی حکام روزانہ کی بنیاد پر اپنی سرحدوں کا انتظام جاری رکھیں گے۔ تاہم، یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر دباؤ کی صورت میں، وہ یورپی ’بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی (اِی بی سی جی)‘ سے مدد طلب کرنے کی درخواست کر سکیں گے

یورپی یونین کے قانون سازوں نے بدھ کو ایک منصوبے کی توثیق کی جس کی مدد سے یورپی یونین کی ’فرنٹیکس بارڈر ایجنسی‘ اور قومی سرحد کے انتظام کی تنظیموں کو ضم کیا جائے گا، تاکہ ہزاروں تارکین وطن کی آمد پر نگرانی کی جا سکے، جو بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ کا رُخ کرتے ہیں۔

اِن منصوبوں کے تحت قومی حکام روزانہ کی بنیاد پر اپنی سرحدوں کا انتظام جاری رکھیں گے۔ تاہم، یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر دباؤ کی صورت میں، وہ یورپی ’بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی (اِی بی سی جی)‘ سے مدد طلب کرنے کی درخواست کر سکیں گے۔

یورپی یونین کے ممالک 1500 اہل کاروں اور تکنیکی آلات پر مشتمل نظام قائم کریں گے جسے یہ ادارہ فوری طور پر تعینات کر سکتا ہے، تاکہ ہجرت کی غیر معمولی رفتار کے معاملے سے نمٹا جاسکے۔

لٹویا سے تعلق رکھنے والی یورپی پارلیمنٹ اور رپورٹر کے رُکن، آرتس پبرکس نے بتایا ہے کہ ’اِی بی سی جی‘ کے ضابطے یہ یقینی بنائیں گے کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو کس طرح بہتر طور پر محفوظ بنانے کا انتظام کیا جائے۔

پیرکس کے بقول، ’’یہ اتنا آسان نہیں کہ تارکین وطن کا بحران اتنی آسانی کے ساتھ ٹل سکے، جس کا اِن دِنوں یورپی یونین کو واسطہ ہے یا یہ کہ شینگن (پاسپورٹ فری) علاقے کے اعتماد کو پورے طور پر بحال کیا جاسکے۔ لیکن، پہلے قدم کے طور پر یہ کچھ کرنا ہوگا‘‘۔

یورپی پارلیمان نے بدھ کی ابتدائی نشست کے دوران 181 کی مخالفت اور 481 کی حمایت سے یہ قانون منظور کیا، جب کہ 48 ارکان رائے دہی میں شامل نہیں ہوئے۔

ووٹ کا مطلب یہ ہے کہ یہ ادارہ دو ماہ کے اندر کام شروع کردے گا۔

XS
SM
MD
LG