رسائی کے لنکس

اتوار کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں تقریباً 200افراد نےیورپ کو 2012ء کے لیے امن کا نوبیل انعام دیے جانے کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا

اس سال کا امن کا نوبیل پرائیز یورپی یونین کو دیا گیا ہے، جس نے جنگ عظیم دوئم کےختم ہونے کے چھ دہائیوں بعد یورپ کو جنگ زدہ براعظم سے امن کے براعظم میں تبدیل کیا۔

پیر کے روز اوسلو میں ناروے کی نوبیل کمیٹی کے چیرمین تھورجارن نالین نے یہ ایوارڈ یورپی یونین کے صدر ہرمن وان رامپی، یورپی کمیشن کے صدر جوز منوئیل بروسو اور یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شلز کو پیش کیا۔

امن کمیٹی نے کہا ہے کہ 27ارکان پر مشتمل تنظیم کو گذشتہ 60برسوں کے دوران استحکام کےحصول کے لیے مرکزی کردار ادا کیا، جس کےباعث سوویت یونین کے شیرازہ بکھرا، نسلی بنیادوں پر جاری قومی تنازعات کا خاتمہ ہوا اور اس طرح مغربی اور مشرقی یورپ ایک ہوئے۔

تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو یہ انعام نہیں دیا جانا چاہئیے تھا کیونکہ وہ سیاسی تقسیم اور سماجی بے چینی کا شکار ہے، جس کا باعث خصوصی طور پر براعظم کا جاری معاشی بحران ہے۔ انسانی حقوق کےگروپوں نے یورپ میں انسانی حقوق کے معاملات کے بارے میں دھیان مبذول کرایا ہے، جِس میں جپسی خانہ بدوشوں اور اسلام کے خلاف امتیاز کے معاملات شامل ہیں۔

اتوار کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں تقریباً 200افراد نےیورپ کو 2012ء کے لیے امن کا نوبیل انعام دیے جانے کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اتوار کےروز ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شامل لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ یورپ کی یکجہتی کی جدوجہد کے خلاف نہیں ہیں، تاہم اُن کے خیال میں یونین امن کےنوبیل پرائیز کی مستحق نہیں، جس کا مقصد تٕخفیف اسلحہ کے لیے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG