رسائی کے لنکس

'گوگل' کی پرائیویسی پالیسی پر یورپی یونین کی تنقید

  • واشنگٹن

'گوگل' نے رواں برس مارچ میں اپنی نئی پالیسی کے تحت ویب سائٹس پر صارفین کے وزٹ کا ریکارڈ رکھنے کا اختیار ازخود حاصل کرلیا تھا۔

نجی معلومات کے تحفظ سے متعلق یورپی اداروں نے قرار دیا ہے کہ امریکی انٹرنیٹ کمپنی 'گوگل' کی جانب سے اپنے صارفین کے لیے متعارف کرائی جانے والی نئی 'پرائیویسی پالیسی' یورپی یونین کے قوانین سے مطابقت نہیں رکھتی۔

یاد رہے کہ 'گوگل' نے رواں برس مارچ میں صارفین سے متعلق اپنی نئی پالیسی متعارف کرائی تھی جس کے تحت کمپنی نے ازخود ویب سائٹس پر صارفین کے وزٹ کاریکارڈ رکھنے کا اختیار حاصل کرلیا تھا۔

کمپنی کے مطابق اس پالیسی کا مقصد صارفین کے رجحانات کا اندازہ لگا کر انہیں مخصوص اشتہارات مہیا کرنا ہے۔'گوگل' نے صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرنے سے متعلق اپنی اس پالیسی کا اطلاق انٹرنیٹ پر کیے جانے والے 'سرچز'، معروف ویڈیو شیئرنگ سائٹ 'یوٹیوب'، اپنے سوشل نیٹ ورک 'گوگل پلس' اور اینڈرائڈ اسمارٹ فونز سسٹم پر بھی کیا ہے۔

تاہم یورپ میں صارفین کی 'پرائیویسی' کا تحفظ کرنے والے اداروں نے 'گوگل' کی نئی پالیسی کے تفصیلی جائزے کے بعد کمپنی کو خبردار کیا ہے کہ وہ ڈیٹا جمع کرنے سے متعلق اپنے صارفین کو کافی معلومات فراہم نہیں کر رہی ہے۔

فرانس کی 'ڈیٹا پروٹیکشن' ایجنسی کی سربراہ ایزابیل فالق پروشین کے مطابق 'گوگل' کی مصنوعات استعمال کرنے والے افراد اپنی پرائیویسی سے متعلق تشویش کا شکار ہیں کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ کمپنی ان کی کس کس آن لائن سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

فرانسیسی عہدیدار نے 'گوگل' کو خبردار کیا ہے کہ وہ تین سے چار ماہ کے اندر اپنی پالیسی تبدیل کرے ورنہ یورپی یونین اس کے خلاف قانونی کاروائی کرے گی۔

تاہم 'گوگل' نے یورپی اداروں کی اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے اور کمپنی کو یقین ہے کہ اس کی پالیسیاں یورپین قانون سے متصادم نہیں۔
XS
SM
MD
LG