رسائی کے لنکس

یورپی یونین کی روس کے خلاف پابندیاں مکمل جنگ بندی تک برقرار


یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک

دو روزہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے یوکرین کے وزیرِ اعظم نے یورپی یونین کے سربراہ سے ملاقات میں کہا تھا کہ روس یورپی ممالک کو اس مسئلے پر تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

یورپی رہنماؤں نے جمعرات کو برسلز میں ایک اجلاس میں کہا ہے کہ وہ روس کے خلاف اس وقت تک اقتصادی پابندیاں نہیں ہٹائیں گے جب تک روس یوکرین میں اس جنگ بندی معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کرتا جس کی اس نے پچھلے ماہ توثیق کی تھی۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ 28 رکنی یورپی یونین کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ روس پر یوکرین میں روس نواز بغاوت کی حمایت ختم کرنے کے لیے دباؤ برقرار رکھے گی۔ گزستہ 11 ماہ میں اس لڑائی میں 6,000 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

ماسکو یوکرین کے روسی زبان بولنے والے سرحدی علاقوں میں باغیوں کو براہِ راست مدد فراہم کرنے کے الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس نے امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں پر شدید اعتراض کیا تھا۔

یورپی یونین نے پہلی مرتبہ گزشتہ جولائی میں پابندیاں عائد کی تھیں جب ماہرین نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ملائشیا کا مسافر طیارہ یوکرین کی فضائی حدود میں روسی ساخت کے میزائلوں سے ہدف بنا کر گرایا گیا۔

روس نے طیارہ گرائے جانے میں کسی قسم کے کردار کی تردید کی تھی۔ طیارے میں سوار 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے بعد امریکہ اور یورپی یونین دونوں نے اعلیٰ روسی عہدیداروں اور صدر ولادیمر پوٹن کے حامیوں کو ویزوں کی پابندی اور اثاثے منجمد کرنے کا ہدف بنایا۔ اس کے علاوہ روس کے بینکاری اور توانائی کے شعبوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔

یورپی یونین نے نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ دو روزہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے یوکرین کے وزیرِ اعظم نے یورپی یونین کے سربراہ سے ملاقات میں کہا تھا کہ روس یورپی ممالک کو اس مسئلے پر تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پابندیوں کے معاملے پر یورپی یکجہتی اس کا بہترین جواب ہو گا۔

XS
SM
MD
LG