رسائی کے لنکس

بیلجیئم کو اپنی سکیورٹی سے متعلق سقم پر تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر جب یہ بات سامنے آئی کہ منگل کو برسلز میں ہوئے بم دھماکوں اور گزشتہ نومبر میں پیرس میں ہوئے دہشت گرد حملوں میں تعلق تھا۔

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ اور انصاف نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو بڑھانے کے لیے مشترکہ انٹیلی جنس معلومات کے حصول اور فضائی مسافروں کی معلومات کے سرعت کے ساتھ تبادلے کا عزم کیا ہے۔

برسلز میں منگل کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد پورے یورپ میں سکیورٹی سے متعلق تحفظات اور تنقید دیکھنے میں آئی اور اسی تناظر میں ان وزرا کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں یورپی یونین کی اس وقت صدارت کرنے والے ملک نیدرلینڈز کے وزیر داخلہ رونلڈ پلاسٹرک کا کہنا تھا کہ "ہمیں نئے منصوبوں کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنے سے کیے گئے اقدام اور منصوبوں کو مکمل طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔"

برسلز بم دھماکوں میں تیس سے زائد افراد ہلاک اور 260 زخمی ہو گئے تھے اور یہ ہنگامی اجلاس حملے کا نشانہ بننے والے میٹرو اسٹیشن سے کچھ ہی فاصلے پر منعقد ہوا ہے۔

پلاسٹرک کا کہنا تھا کہ "ہر کوئی یہ محسوس کرتا ہے کہ بیلجیئم پر حملہ یورپ اور ان اقدار پر حملہ تھا جن پر ہم متحد ہیں۔ یورپ پہلے بھی حملوں کا شکار ہوا۔ لیکن ہم ہمیشہ آزادی اور جمہوریت کا دفاع کرتے آئے ہیں اور ہم یہ مل کر کریں گے۔"

بیلجیئم کو اپنی سکیورٹی سے متعلق سقم پر تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر جب یہ بات سامنے آئی کہ منگل کو برسلز میں ہوئے بم دھماکوں اور گزشتہ نومبر میں پیرس میں ہوئے دہشت گرد حملوں میں تعلق تھا۔

یورپی یونین کے امور داخلہ کے کمشنر دمترس ایوراموپولس کا کہنا تھا کہ "اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے، بصورت دیگر چیزوں کے بارے میں پیش گوئی کی جا سکتی تھی اور پھر ان سے بچا جا سکتا تھا۔"

برسلز کے حملہ آوروں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ "یہ سب مقامی تھے لیکن ان کے بارے میں انٹیلی جنس سروسز کو معلوم تھا۔ اگر ہم معلومات کا تبادلہ کرتے تو ہم اس کارروائی سے شاید بچ جاتے اور یہی معاملہ پیرس کے حملوں میں بھی ہوا۔"

داعش نے برسلز حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جمعرات کو ایک وڈیو جاری کی جس میں برسلز دہشت گرد حملوں کو فتح قرار دیتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو "جہاد" کرنے پر زور دیا۔

XS
SM
MD
LG