رسائی کے لنکس

یورو اختلاف رائے اور تقسیم کی علامت

  • لیزا بریئنٹ

یورو اختلاف رائے اور تقسیم کی علامت

یورو اختلاف رائے اور تقسیم کی علامت

یورپ اپنے مالیاتی بحران سے نمٹنے کی کوشش میں مصروف ہے، اور اس کے ساتھ ہی بہت سے لوگوں میں یورپ کی مشترکہ کرنسی، یورو کے بارے میں متضاد اور ملے جلے خیالات پیدا ہو رہے ہیں۔ پیرس میں وائس آف امریکہ کی نامہ نگارلیزا بریانٹ نے یورپ کے کئی ملکوں کے شہریوں سے ان کے خیالات معلوم کیے۔

یورپی یونین کی تشکیل ہوئی تو سب سے پہلے اس کے لیے ایک مشترکہ ترانے کا انتخاب کیا گیا ۔ پھر یورپی یونین نے اپنے ارکان کو اور زیادہ قریب لانے کے لیے ایک مشترکہ کرنسی متعارف کرائی۔ یہ کرنسی جس کا آغاز دس برس پہلے ہوا تھا، اب یورپ کے 17 ملک استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح بہت سے شہریوں کو سفر میں اور بینکنگ میں آسانی ہوتی ہے ۔

لیکن آج کل، یورواختلافِ رائے اور تقسیم کی علامت بن گیا ہے ۔ خود مختار ملکوں کے قرضوں اور بنکاری کے مسئلے جو یونان سے شروع ہوئے، اب یورو زون کے دوسرے ملکوں میں پھیل گئے ہیں۔ ان کے نتیجے میں احتجاج ہوئے ہیں اور کئی ملکوں کی حکومتیں تبدیل ہو گئی ہیں۔ تازہ ترین مثال اٹلی کی ہے جہاں حال ہی میں نئی حکومت بنی ہے ۔

برسلز جیسے شہر میں بھی جہاں یورپی یونین کے انتظامی دفاتر قائم ہیں جارج میسیکوس جیسے شہری یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کیا یورپی کرنسی، یورو ان کے لیے واقعی فائدے مند ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ یورو سے پہلے ضروریاتِ زندگی سستی تھیں۔ بیلجیم کی پرانی کرنسی، فرینک کے زمانے میں، لوگ پیسہ خرچ کرتے تھے اور ان کی جیبوں میں پھر بھی پیسہ بچ جاتا تھا۔ آج کل ان کی جیبیں بالکل خالی ہیں۔

ہمسایہ ملک نیدر لینڈز میں، ایمسٹرڈیم میں رہنے والے 49 سالہ کے خیالات یورو کے بارے میں ملے جلے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’جب ہم چھٹیاں گذارنے ، اسپین ، جرمنی یا کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو ہمیں آسانی ہوتی ہے۔ ہم ایک ہی کرنسی استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کتنے پیسے خرچ ہوں گے ۔ پہلے ہم ڈچ کرنسی فلورن استعمال کرتے تھے۔ یورو کرنسی اسکے مقابلے میں مہنگی پڑتی ہے ۔ بیشتر لوگ فلورن پر واپس جانا چاہتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں، پرانی کرنسی پر جانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

لیکن کچھ ملکوں کے لیے، خاص طور سے یونان کے لیے، یورو کا خاتمہ نزدیک ہے ۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، یونان کے بہت سے لوگ اب بھی یورو کے حامی ہیں۔ یورو زون کے لیڈر کہتےہیں کہ یہ بات اہم ہے کہ یورپی یونین کے ملکوں میں یورو کرنسی برقرار رہے ۔ لیکن یہ خیال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ یونان کے لیے یور و زون کو خیر باد کہنا ہی مناسب ہوگا۔

سینٹر فار یورپین ریفارم کے چیف اکانومسٹ سائمن ٹلفورڈ کہتے ہیں کہ اس امکان کو پوری طرح مسترد نہیں کیا جا سکتا۔’’اگر کسی ملک نے یورو زون سے نکلنے کا فیصلہ کیا، تو بقیہ ملکوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ یہ عمل منظم طریقے سے کیا جائے۔ لیکن پھر اس میں مسئلہ یہ ہوگا کہ جتنی آسانی سے اور منظم طریقے سے کوئی ملک یورو زون سے نکلے گا، اتنا ہی دوسرے ملکوں کو یورو زون سے نکلنے کی ترغیب ہوگی۔ لہٰذا ، اس میں خطرہ یہ ہے کہ کہیں یہ سلسلہ ایک سے دوسرے ملک تک نہ پھیل جائے۔‘‘

لیکن پیرس میں قائم فرنچ انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل افیئرز کے فلپ موریو
ڈیفارجس کی پیشگوئی یہ ہے کہ یورو زون اپنی موجودہ شکل میں قائم رہے گا۔ ’’میں سمجھتا ہوں کہ آج کل یورو جان بچانے والی کشتی کی طرح ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ ہر کوئی یورو کو چھوڑنا چاہتا ہے لیکن ہر کوئی اس جان بچانے والی کشتی میں سوار ہونا نہیں چاہے گا۔ لیکن فی الحال ہمارے پاس یہی ایک کشتی ہے اور وہ ہے یورو۔‘‘

یورپی ملکوں کی حکومتوں نے اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، ان کی وجہ سے یورو، اور مجموعی طور پر یورو زون کے بارے میں، ملے جلے خیالات پروان چڑھ رہے ہیں ۔ فرانس میں یہی صورتِ حال ہے ، جہاں بجٹ میں حالیہ تخفیف کی وجہ سے، ہزاروں لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے ۔

لیکن 70 سالہ ریٹائرڈ کارکن ہنری سوکیوز جو پیرس کے مظاہروں میں شریک ہوئے تھے، کہتے ہیں کہ یورپ کے مسائل کے لیے یورو کو الزام نہیں دیا جانا چاہیئے ۔

سوکیوز نے کہا کہ ایک مشترکہ منڈی کے لیے، یورپ کو ایک مشترکہ کرنسی کی ضرورت ہے ۔ یورو سے ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

XS
SM
MD
LG