رسائی کے لنکس

یورپ میں ہم جنس پرستوں کی سالانہ پریڈ میں ہزاروں افراد کی شرکت


یورپ میں ہم جنس پرستوں کی سالانہ پریڈ میں ہزاروں افراد کی شرکت

یورپ میں ہم جنس پرستوں کی سالانہ پریڈ میں ہزاروں افراد کی شرکت

ہم جنس پرستوں کی سالانہ پریڈ کے موقع پر ہفتے کے روز وسطی یورپ کے متعدد ممالک کے دارالحکومتوں میں ہزاروں ہم جنس پرست مرد اور خواتین نے جلوس نکالے اور امتیازی برتاؤ کے خاتمے اورمساوی حقوق کا مطالبہ کیا۔

کروشیا کی پولیس کا کہناہے کہ دارالحکومت زغرب میں ہم جنس پرستوں کی 10 ویں سالانہ پریڈ میں تقریباً دو ہزار افراد نے شرکت کی، جن کی حفاظت پر سینکڑوں پولیس اہل کار تعینات تھے۔ پولیس نے اس موقع پر جلوس کے شرکاء کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے17 افراد کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کا کہناہے کہ مجموعی طورپر جلوس پرامن رہا ۔

اس ہفتے کے شروع میں کروشیا کے قدامت پسند باشندوں نے ساحلی شہر سپلٹ میں ہم جنس پرستوں کی جانب سے نکالے گئے پہلے جلوس میں رخنہ اندازی کرتے ہوئے ان پر پتھر اؤ کیا اور بوتلیں اور آگ لگانے والے گولے پھینکے۔ اس جلوس میں تقریباً دوسو افراد نے حصہ لیاتھا۔

حکام نے جلوس پر حملے کے الزام میں ایک سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا۔ تشدد کے اس واقعہ میں کئی افراد زخمی بھی ہوئےتھے۔

کروشیا کی زیادہ تر آبادی رومن کیتھولک نظریات پر عمل کرتی ہے اور وہ ہم جنس پرستی کی مخالف ہے۔ لیکن زغرب کے حکام نے یورپی یونین میں شمولت کی اپنی کوششوں کے سلسلے میں انسانی حقوق کے تحفظ کا عزم کررکھاہے۔

یورپی یونین اصولی طورپر کروشیا کو 2013ء میں اپنی رکنیت دینے پر متفق ہوچکی ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق بلغراد کے دارالحکومت صوفیا اور ہنگری کے صدر مقام بوداپست میں سینکڑوں ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں نے سالانہ پریڈ میں حصہ لیا جن کی حفاظت کے لیے پولیس کے سینکڑوں اہل کاروں ان کے ساتھ چل رہے تھے۔

دونوں مقامات پر جلوس پرامن طورپر ختم ہوئے۔ہم جنس پرستوں کا کہناتھا کہ انہیں قدامت پرست اکثریت سے خدشات ہیں۔

ہفتے کے روز ہم جنس پرستوں کا سب سے بڑا جلوس آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں نکالا گیا۔ اس موقع پر ہزاروں افراد نے سٹی ہال میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں ہم جنس پرستوں نے امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئےاپنی شناخت تسلیم کیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔

XS
SM
MD
LG