رسائی کے لنکس

عرب دنیا کا جمہوری انقلاب اور یورپی معیشت

  • الپیسن
  • ندیم یعقوب

عرب دنیا کا جمہوری انقلاب اور یورپی معیشت

عرب دنیا کا جمہوری انقلاب اور یورپی معیشت

عرب دنیا میں اس سال رونما ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کے بعد قائم ہونے والی نئی حکومتیں عوام کی معاشی خوشحالی کی کوششیں کررہی ہیں۔ اس سلسلے میں وہ نہ صرف یورپ سے امداد کی توقع رکھتے ہیں بلکہ یورپی منڈ یوں تک رسائی بھی چاہتے ہیں۔ جب کہ یورپ میں جاری معاشی بحران کے باعث عرب حکومتوں کے لئے اپنے مقاصد کا حصول کافی مشکل نظر رہا ہے۔

مصر میں عوامی انقلاب اور تیونس اور لیبیا میں سیاسی تبدیلیوں نےجمہوریت اور جبری تسلط سے آزادی کی امید پیدا کی ہے ۔ ان تبدیلیوں نے خوشحالی کے لئے دبے ہوئے مطالبات کو بھی آواز دی ہے جس کا کافی حد تک دارومدار بین الاقوامی منڈیوں اور سرمایہ کاروں پر ہے۔

لندن سکول آف اکنامکس کے ماہر معاشیات پروفیسر آئن بیگ کہتے ہیں کہ یورپ کے معاشی مسائل کو انقلابی تبدیلیوں سے دوچار عرب ممالک میں مختلف طرح سے محسوس کیا جائے گا۔

ان کا کہناہے کہ میرے خیال میں ہمیں عرب دنیا کے ممالک کو انفرادی طور پر دیکھنا ہوگا کیونکہ ان تمام کی خصوصیات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔لیبیا تیل کی وجہ سے امیر ملک ہے۔ تیل کی برآمد دوبارہ بحال ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ مگر تنہائی ختم ہونے سے لیبیا کو کافی فائدہ ہوگا۔ البتہ مصر کے لئے مشکلات زیاد ہوں گی کیونکہ اس کی آبادی زیادہ ہے اور برآمدات کی صلاحیت بہت کم ہے۔

لیبیا کے ایک کاروباری شخص سالم المیعارکہتے ہیں کہ یہ مطالبات لیبیا کے لئے بھی اہم ہونگے جو تیل پر منحصر اپنی معیشت میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔

تیونس ایک عرصے سے اپنے حدوداربعے کے باعث سیاحت سے فائدہ اٹھاتا آیا ہے۔مگرگزشتہ سال کے آخر اور اس سال کے شروع میں ٕٕمظاہروں کے آغاز سے سیاحت کو کافی دھچکا لگا، جس میں اب کچھ بہتر آرہی ہے۔ یورپ میں معیشت کی بدحالی ابھی جاری ہے اور پروفیسر آئن بیگ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ 2011ء یورپ کے معاشی بحران کے لئے بدترین ثابت ہو۔

تجزیہ کارانتھونی سکنرکہتے ہیں کہ شاید یورپی سرمایہ کاروں کو جلد ہی یہ احساس ہوجائے کہ مشرق وسطیٰ ان کے لئے زیادہ دلکش ہے۔ ان کا کہناتھا کہ جس رفتار سےیہ ملک آزاد جمہوری نظام کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ آزاد منڈی کے رکن ملکوں کے لئے یہ اچھی خبر ہے۔

عرب دنیا میں انقلاب کی خوشی کے بعد ترقی پذیر ملکوں کو اس حقیقت کا سامنا ہےکہ دنیا کی معیشت زوال کا شکار ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عرب دنیا میں نئی حکومتوں کو سیاسی وعدے پورے کرنے اور معیشت میں نئی اختراعات لانے کی ضرورت ہےاو ریہ امید قائم رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی اہم منڈیاں اور امداد فراہم کرنے والے ممالک معاشی بدحالی کے باعث ان کے ہاتھ سے نہیں نکلیں گے ۔

XS
SM
MD
LG