رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خلاف یورپ میں سمر کیمپ

  • ہنری ول

شدت پسندی اور دھشت گردی کے بارے میں لوگوں کے اندر آگاہی پیدا کرنے کے لیے حالیہ دنوں میں برطانیہ میں ایک سمر کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ مغربی دنیا میں اپنی نوعیت کے اس پہلے کیمپ میں یورپ اور امریکہ سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس کیمپ میں ایک معروف پاکستانی سکالر محمد طاہر القادری نے شدت پسندی کے موضوع پر لیکچرز دیے۔

اکثر نوجوانوں کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں میں منعقد ہونے والے سمر کیمپوں کا مقصد تفریح اور نئے دوست بنانا ہوتا ہے، لیکن الحدایا 2010 کا مقصد نہایت سنجیدہ تھا۔ یعنی شدت پسندی اور دھشت گردی کا مقابلہ کرنا اور اس سلسلے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا۔ اس کیمپ میں یورپ اور شمالی امریکہ سے تعلق رکھنے والے 1300 نوجوان برطانیہ کی واروک یونیورسٹی میں اکٹھے ہوئے۔

افتتاحی تقریب کے بعد مسلمان سکالر اور مذہبی راہنما محمد طاہر القادری نے ، جو اس کیمپ کے منتظم بھی تھے، تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی دنیا میں دہشت گردی کے خلاف اس پہلے کیمپ میں ، ہم تعلیمی ، دینی اور نظریاتی نقطہ نظر سے بات کریں گے۔ ہم لوگوں کے سامنے اسلام کا ایک حقیقی اور اعتدال پسند چہرہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔

محمد طاہرالقادری کو تب سے برطانیہ میں ایک معروف مذہبی اسکالر کے طورپر جانے جانے لگے ہیں جب اس سال کے شروع میں انھوں نے دھشت گردی کے خلاف 600 صفحات پر مشتمل ایک فتویٰ جاری کیاتھا۔ یہ فتویٰ ان انتہا پسند وں کے مقابلے کے لیے جاری کیا گیا تھا، جن پر برطانیہ میں مقامی سطح پر دھشت گردی کر فروغ دینے کا الزام تھا۔

پچھلے مہینے لندن میں جولائی 2005 کے اس سانحے کے 5 سال مکمل ہوئے جس میں 4 برطانوی شہریوں نے لندن کے ایک ٹرین سٹیشن پر دھماکے کیے تھے۔

اس کے کچھ ہی دن کے بعد تین برطانوی مسلمانوں پر ایک ہوائی جہاز کو مائع بموں سے تباہ کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کا جرم عائد کیا گیا تھا۔ طاہر القادری کاکہنا تھا کہ مقامی سطح دھشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ برطانیہ، یورپ اور شمالی امریکہ جیسے ملکوں میں رہنے والے غیر مسلموں کی طرح آپ لوگوں کو بھی وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو آئین اور قانون انہیں دیتا ہے، اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آپ کو بہت سے مسلمان اور عرب ممالک سے بہتر شخصی آزادی اور حقوق حاصل ہیں۔

تین دنوں پر مشتمل اس سمر کیمپ میں حاضرین نے نہایت توجہ سے لیکچرز کو سنا، سمجھا اور اس پر بحث کی ۔

اگرچہ یورپی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی بہت تھوڑی تعداد نے اس کیمپ میں شرکت کی۔ لیکن اس طرح کے کیمپ یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی منعقد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاکہ وہاں بسنے والے نوجوان مسلمانوں اور دوسرے لوگوں کو انتہا پسندی کو پہچاننے اور اس کا مقابلہ کرنے کی تعلیم دی جائے۔



XS
SM
MD
LG